جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے متعدد سابق ٹکٹ ہولڈرز نے جماعت سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ایل پی کالعدم قرار دیے جانے کے خلاف پہلے حکومت اور پھر عدالت سے رجوع کرسکتی ہے، رانا ثنااللہ
ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خانیوال سے تعلق رکھنے والے سابق امیدوار راؤ احمد سجاد نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پریسن کانفرنس کرتے ہوئے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب کی قیادت اور تمام سابق ٹکٹ ہولڈرز نے متفقہ طور پر تحریک لبیک سے لاتعلقی کا فیصلہ کیا ہے۔
راؤ احمد سجاد نے کہا کہ انہوں نے 2022 کے ضمنی انتخابات اور 2024 کے عام انتخابات میں حصہ لیا۔ تاہم، موجودہ سیاسی حالات اور شدت پسندانہ و گروہی سیاست کے رجحانات کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ تحریک لبیک سے علیحدگی اختیار کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ایل پی پر پابندی، رضوی برادران مشکل میں، حیران کن شواہد سامنے آگئے
ان کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کی تمام قیادت اور نیشنل اسمبلی کے سابق ٹکٹ ہولڈرز اس فیصلے میں ان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات کے پیشِ نظر وہ قومی سطح پر مثبت اور تعمیری سیاست کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
ایک اور ٹکٹ ہولڈر محمد حسین بابر نے کہا کہ ہم تحریک لبیک سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہیں اور ہم پر کوئی دباؤ نہیں، ٹی ایل پی کے پاس فلسطین کے نام پر احتجاج کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا، فلسطینی خود معاہدے پر مطئمن تھے مگر یہاں احتجاج کی کال دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ایل پی کو فنانس کرنے والے 3 ہزار 800 افراد کا سراغ لگا لیا، وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری
انہوں نے کہا کہ احتجاج کا کوئی جواز نہیں تھا، بیرونی چیلنجز ہوتے ہوئے ملک میں احتجاج کی کال دینا نامناسب عمل تھا، ٹی ایل پی کے لانگ مارچ سے ملک کو نقصان پہنچا، ہم تحریک لبیک سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہیں۔
ٹکٹ ہولڈرز نے کہا کہ پاکستان کلمہ کے نام پر حاصل کیا گیا، دشمن قوتوں کے عزائم کو ناکام بنائیں گے، پاکستان تاقیامت قائم رہے گا کوئی اس کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔
محمد حسین بابر نے کہا کہ کالعدم ٹی ایل پی سے بغیر کسی دباؤ کے علیحدہ ہورہے ہیں۔ راؤ عارف سجاد نے کہا کہ پاکستان انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا۔













