ٹرمپ کی مخالفت کے باوجود ظہران ممدانی کامیاب، ’کیا امریکی صدر کمزور ہورہے ہیں؟‘

بدھ 5 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مسلم جنوبی ایشیائی نژاد 34 سالہ ظہران ممدانی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ارب پتی ایلون مسک کی جانب سے بھرپور مخالفت کے باوجود نیویارک کے میئر منتخب ہوگئے ہیں، وہ نیویارک کے میئر بننے والے پہلے مسلمان امیدوار بن گئے ہیں۔

سوشل میڈیا صارفین ممدانی کی جیت پر مختلف تبصرے کرتے نظر آتے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ دنیا کے طاقتور ترین شخص صدر ٹرمپ کی اعلانیہ مخالفت کے باوجود امریکی شہر نیویارک کے میئر کا الیکشن مسلمان امیدوار ظہران ممدانی نے جیت لیا۔ یہ ہوتی ہے اصل جمہوریت اور ووٹ کی طاقت۔ انہوں نے مزید کہا کہ ظہران ممدانی کی جیت اس بات کا بھی اعلان ہے کہ صدر ٹرمپ کی عوامی پذیرائی ختم ہو رہی ہے۔

ایک صارف کا کہنا تھا کہ دنیا میں آج ایک تاریخی دن ہے۔ نیویارک جیسے طاقتور اور اثرورسوخ رکھنے والے شہر میں ایک 34 سالہ مسلمان نے میئر کا الیکشن جیت کر وہ کر دکھایا جو امریکا کی اشرافیہ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ یہ جیت صرف ایک شخص کی نہیں، بلکہ ترقی پسند سوچ، عام آدمی، اور مزاحمت کی سیاست کی جیت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہم نے ایک سیاسی بادشاہت اُلٹ دی، ظہرانی ممدانی کا جیت کے بعد پہلا خطاب

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے اس نوجوان کو ہر ممکن طریقے سے دبانے کی کوشش کی، قانونی مقدمات، مالی دباؤ، سیاسی تنہائی، اور کردار کشی مگر ظہران ممدانی پیچھے نہیں ہٹے۔ یہاں تک کہ اپنی پارٹی، ڈیموکریٹک پارٹی کے کچھ بڑے رہنما بھی اس کے خلاف ہو گئے، لیکن اس نے اپنی بات پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

روبرٹ نامی صارف نے کہا کہ یہ امریکا، مسلمانوں اور فلسطین کی جیت ہے اور اسرائیل اور امریکی اسلام دشمنوں کے منہ پر زبردست طمانچہ ہے۔

ہرمیت سنگھ نے لکھا کہ یہ کامیابی نہ صرف امریکی سیاست بلکہ مسلم اور جنوبی ایشیائی برادری کے لیے بھی تاریخی لمحہ سمجھی جا رہی ہے۔

سلمان غنی نے لکھا کہ لندن کے بعد امریکا کے بڑے شہر نیویارک میں ظہران ممدانی کی بڑی جیت اس امر کا ثبوت ہے کہ آج بھی دنیا سیاسی میدان میں فیصلہ بلا کسی رنگ نسل اور مذہب کی بنیاد پر کرتی ہے اور جو خدا کی ذات پر ایمان کے بعد خدمت پر یقین رکھتے ہوں وہی سرخرو ہوتے ہیں وہاں ٹرمپ کارڈ کارگر نہیں ہوتا۔

ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ ظہران ممدانی کی جیت بتاتی ہے کہ نیویارک کے لوگ سمجھتے ہیں کہ غزہ میں نسل کشی ہو رہی ہے۔

واضح رہے کہ سیاست میں آنے سے پہلے ظہران نے نیویارک میں رہائشی بحران کے شکار افراد کے ساتھ بطور ہاؤسنگ کونسلر کام کیا، جہاں انہوں نے گھروں سے بے دخلی کے خلاف جدوجہد کی، اسی تجربے نے انہیں عام شہریوں کی مشکلات کے قریب کیا، وہ مشکلات جنہیں اکثر روایتی سیاست دان نظرانداز کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نیویارک کے پہلے مسلم میئر ظہران ممدانی کون ہیں؟

2020 میں ظہران ممدانی نے پہلی بار نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے ضلع 36 کوئینز سے الیکشن لڑا اور شاندار کامیابی حاصل کی، یوں وہ نیویارک اسمبلی کے چند انقلابی نوعیت کے نوجوان اراکین میں شامل ہو گئے جنہوں نے ’ڈیموکریٹک سوشلسٹ‘ نظریات کو عوامی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار