مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ٹی20 لیگ کا دھڑن تختہ، منتظمین غائب، کھلاڑی ہوٹلوں میں پھنس گئے

بدھ 5 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مقبوضہ جموں و کشمیر میں منعقد ہونے والی انڈین ہیون پریمیئر لیگ (IHPL) اچانک ختم ہو گئی جب منتظمین راتوں رات فرار ہو گئے، اپنے پیچھے ادھار کے بل اور غیر ادا شدہ رقوم چھوڑ کر۔ اس صورتحال میں کھلاڑی اور امپائرز ہوٹلوں میں پھنس گئے جبکہ ایونٹ مکمل طور پر منسوخ کر دیا گیا۔

یہ لیگ، جس کا مقصد مقامی کرکٹ اور سیاحت کو فروغ دینا بتایا گیا تھا، میں بین الاقوامی کرکٹرز جیسے کرس گیل، جیسی رائڈر، اور تھیسارا پریرا نے شرکت کی تھی۔ تاہم، ایونٹ کے خاتمے نے کھلاڑیوں کو حیرت اور مایوسی میں مبتلا کر دیا۔

 ایونٹ کا پس منظر

IHPL کا آغاز 23 اکتوبر کو کیا گیا تھا اور اسے 7 نومبر تک جاری رہنا تھا۔ لیگ میں 8 ٹیمیں شامل تھیں جن میں مقامی، قومی اور بین الاقوامی کھلاڑی شریک تھے۔

یہ ایونٹ یووا سوسائٹی نامی غیر منافع بخش تنظیم نے جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کے اشتراک سے منعقد کیا تھا۔

 منتظمین کا غائب ہونا

خبر کے مطابق، 2 نومبر (اتوار) کو بخشی اسٹیڈیم ویران پڑا تھا، جب کہ لگ بھگ 40 کھلاڑیوں کو ہوٹلوں میں افراتفری کی صورتحال کا سامنا تھا۔

انگلش امپائر میلیسا جونیپر نے بتایا کہ ’منتظمین ہوٹل سے غائب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے ہوٹل، کھلاڑیوں یا امپائرز کو ادائیگی نہیں کی۔ ہم نے ہوٹل انتظامیہ سے بات کر کے کھلاڑیوں کو گھر واپس بھیجنے کا بندوبست کیا۔ انہیں یہاں رکھنا ناانصافی تھی۔‘

ریذیڈنسی ہوٹل میں منتظمین نے تقریباً 150 کمرے بک کرائے تھے۔ ہوٹل انتظامیہ کے مطابق ’انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ کرس گیل جیسے اسٹار کھلاڑیوں کے ذریعے کشمیر کی سیاحت کو فروغ دیا جائے گا مگر اتوار کی صبح پتہ چلا کہ وہ بغیر بل چکائے غائب ہو گئے۔‘

 کھلاڑیوں اور حکام کا ردعمل

سابق بھارتی آل راؤنڈر پرویز رسول نے کہا کہ بعض کھلاڑیوں کو عارضی طور پر ہوٹل سے نکلنے سے روکا گیا، جب تک کہ معاملہ غیر ملکی سفارتخانوں تک نہیں پہنچ گیا۔
انہوں نے بتایا ’ایک انگلش امپائر کو برطانوی سفارتخانے سے رابطہ کرنا پڑا تاکہ وہ محفوظ طور پر وطن واپس جا سکیں۔‘

ایک مقامی کھلاڑی نے انکشاف کیا کہ منتظمین نے ایونٹ کے اخراجات کا غلط اندازہ لگایا تھا۔

’یہ ایک نادر موقع تھا کہ ہم عالمی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل سکیں۔ مگر اسپانسرز نے آخری لمحات میں ہاتھ کھینچ لیا، ناظرین کم آئے، اور رقم ختم ہو گئی۔ پہلے ہی دن یونیفارم تک موجود نہیں تھی۔ انہیں مقامی طور پر خریدا گیا۔ کوئی معاہدے بھی دستخط نہیں کیے گئے تھے۔‘

 حکومتی موقف

جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل کے ایک اہلکار کے مطابق ’IHPL کے صدر آشو دانی نے پولیس سے کلیئرنس اور اسٹیڈیم کی اجازت حاصل کی تھی۔ انہوں نے فیس ادا کی، مگر حکومت کا ایونٹ کے انعقاد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ہمیں معلوم نہیں کہ یہ لیگ اچانک کیوں ختم ہوئی۔‘

واضح رہے کہ لیگ کا آغاز 18 ستمبر کو اعلان کے ساتھ ہوا تھا اور 32 سابق بین الاقوامی کھلاڑیوں کی شرکت متوقع تھی۔ تاہم، تماشائیوں کی کم تعداد، اسپانسرز کے انخلا اور مالی بدانتظامی کے باعث ایونٹ اپنے آغاز کے چند ہی دن بعد منہدم ہو گیا۔

صرف کرس گیل کے میچوں میں کچھ تماشائی نظر آئے، جب کہ تھیسارا پریرا نے محض ایک میچ کھیلا۔ یوں، مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرکٹ اور سیاحت کو فروغ دینے کا خواب بدانتظامی اور مالی بحران کی نذر ہو گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’روز 1300 بچے مر رہے ہیں، اگلے بچے کو مرنے سے بچائیں‘، وزیر صحت کا قومی اسمبلی میں جذباتی خطاب

کیرولین لیویٹ کا وائٹ ہاؤس میں آخری دن بچوں کے نام، بریفنگ روم میں جذباتی لمحات

کیا پاکستان چین سے دور ہوسکتا ہے؟ شبر زیدی کی پرانی ویڈیو کو تجزیہ کاروں نے مسترد کردیا

پمز سانحہ: وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا استعفیٰ وزیراعظم کو پیش، فرانزک رپورٹ کا انتظار

متنازع ٹیلی کام ترمیمی بل واپس لینے کا فیصلہ، اب کیا ہوگا؟

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ