بحیرہ کیریبین میں ’دہشتگرد‘ کشتی پر امریکی حملہ، 3 ہلاک

جمعہ 7 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی فوج نے کیریبین میں ایک کشتی پر حملہ کیا ہے، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق مذکورہ حملے میں 3 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پیٹ ہیگسیتھ نے سوشل میڈیاپلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر، محکمہ جنگ نے ایک کشتی پر مہلک حملہ کیا جو ایک نامزد دہشت گرد تنظیم کے زیر انتظام تھا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کا طیارہ بردار بحری بیڑا کیریبین روانہ، منشیات بردار کشتیوں کیخلاف کارروائیاں تیز

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی فورسز اس حملے میں محفوظ رہیں۔’یہ کشتی بحیرہ کیریبین میں منشیات کی اسمگلنگ کر رہا تھی جسے بین الاقوامی پانیوں میں نشانہ بنایا گیا۔‘

امریکی فوج نے اب تک 17 حملوں میں 70 افراد کو ہلاک کیا ہے اور 18 کشتیوں کو تباہ کیا ہے، جسے واشنگٹن منشیات کی اسمگلنگ کے امریکی منڈی میں داخلے کو روکنے کے لیے اپنی مہم کا حصہ قرار دیتا ہے۔

ان حملوں میں 3 افراد زندہ بچ گئے، جن میں سے 2 کو امریکی بحریہ نے عارضی طور پر حراست میں لیا تھا۔

مزید پڑھیں: منشیات امریکا اسمگل کرنے والی آبدوز تباہ، ٹرمپ کا 25000 امریکیوں کو موت سے بچانے کا دعویٰ

بعد میں انہیں ان کے ممالک واپس بھیج دیا گیا، تیسرے فرد کو مردہ سمجھا جا رہا ہے کیونکہ میکسیکو کی بحریہ نے ان کی نعش کی تلاش کی تھی۔

جبکہ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی فوج کے لیے بغیر عدالتی جائزے کے مہلک حملے کرنے کا اختیار حاصل ہے، جس کا جواز ایک خفیہ وزارت انصاف کی رپورٹ سے ملتا ہے۔

کانگریس کے کچھ ارکان اور انسانی حقوق کے گروپوں نے اس رپورٹ پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ممکنہ منشیات کے اسمگلروں کو مقدمہ چلایا جانا چاہیے، جیسا کہ اس سے پہلے امریکی پالیسی تھی جب تک صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ابھی تک یہ عوامی ثبوت فراہم نہیں کیا کہ جن کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا، ان میں منشیات موجود تھیں یا ان کا منشیات کے کارٹلز سے تعلق تھا۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا وینزویلا سے آنے والی کشتی پر حملے، 11 منشیات فروشوں کی ہلاکت کا دعویٰ

ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو منشیات کی اسمگلنگ سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ اس نے دارالحکومت کے قریب ایک بڑی فوجی موجودگی برقرار رکھی ہے، حالانکہ وینزویلا امریکا کی منشیات کی مارکیٹ کے لیے اہم کوکین فراہم کنندہ کے طور پر نہیں جانا جاتا۔

انتظامیہ کے عہدیداروں نے گزشتہ روز قانون سازوں کو بتایا کہ امریکا اس وقت وینزویلا میں حملوں کی منصوبہ بندی نہیں کر رہا اور نہ ہی کسی بھی زمینی ہدف کے خلاف حملے کے لیے قانونی جواز موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شدید فضائی جھٹکوں سے مسافر کی ہلاکت، بیوہ کا سنگاپور ایئرلائنز کے خلاف عدالت سے رجوع

حنا جاوید قتل کیس ہائی پروفائل قرار، خصوصی کمیٹی قائم

چین کی اہم دریا سے سمندر تک نہر کی تعمیر مکمل، ستمبر میں کھولنے کی تیاری

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں