صدر مملکت آصف علی زرداری کا سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر اظہارِ افسوس اور تعزیت

منگل 11 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹ میں پارلیمانی قائد سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

صدر مملکت نے مرحوم کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عرفان صدیقی کی جمہوریت، پارلیمانی روایات اور قومی خدمت کے لیے خدمات قابلِ تحسین ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: نواز شریف کے قریبی ساتھی سینیٹر عرفان صدیقی انتقال کرگئے

انہوں نے مرحوم کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی۔

سینیٹر و معروف کالم نگار عرفان صدیقی گزشتہ شب اسلام آباد کے مقامی اسپتال میں انتقال کرگئے ہیں۔

عرفان صدیقی سانس کی تکلیف کے باعث گزشتہ کچھ  عرصے سے اسلام آباد کے مقامی اسپتال میں زیر علاج تھے، علالت کے باعث انہوں نے 27ویں آئینی ترمیم کے لیے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔

یہ بھی پڑھیے: عرفان صدیقی: پرائمری اسکول ٹیچر سے وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر تک کا سفر

عرفان صدیقی سینیٹ میں حکمران جماعت کے پارلیمانی لیڈر تھے، اُن کی سینیٹ میں مدت مارچ 2027 تک تھی۔

ان کا شمار مسلم لیگ ن کے صدر و سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکا نے اپنا بحری بیڑا ’جارج بش‘ بحیرہ ہند میں اتار دیا

بنگلہ دیشی بارڈر گارڈز کی اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی، 84 لاکھ ٹکا مالیت کی بھارتی ساڑیاں برآمد

سکھ رہنماؤں کو بھارتی دھمکیاں، سکھ فار جسٹس نے بھارتی سفارتکار کی مبینہ آڈیو لیک کردی

ویڈیو

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

خیبر پختونخوا: دہشتگردی کے واقعات میں کمی، پشاور کے شہری کیا کہتے ہیں؟

پہلگام حملہ: کیا یہ خود ساختہ منصوبہ تھا؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار