ترکیہ کا فوجی کارگو طیارہ گر کر تباہ، ہلاکتوں کا خدشہ

منگل 11 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ترکیہ کا ایک فوجی سی-130 کارگو طیارہ منگل کے روز آذربائیجان اور جارجیا کی سرحد کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ وزارت دفاع ترکیہ کے مطابق طیارے میں عملے سمیت 20 افراد سوار تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ترکیہ میں ہیلی کاپٹر اسپتال کی عمارت سے ٹکرا کر تباہ، 4 افراد جاں بحق

ترکیہ کی وزارت دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ طیارہ آذربائیجان سے روانہ ہو کر ترکیہ واپس جا رہا تھا جب یہ حادثے کا شکار ہوا۔

ترک حکام کے مطابق حادثے کے فوراً بعد آذربائیجان اور جارجیا کی متعلقہ اتھارٹیز کے ساتھ مل کر مشترکہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ امدادی ٹیمیں جائے حادثہ کے قریب پہنچ چکی ہیں اور ملبے تک رسائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ضلع وہاڑی میں پاک فوج کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ، دونوں پائلٹ محفوظ رہے

وزارت دفاع نے کہا کہ حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ طیارے میں فوجی سازوسامان اور عملہ موجود تھا، تاہم ہلاکتوں یا زخمیوں کی تصدیق ابھی نہیں ہوئی۔

ترک صدر اور عسکری حکام نے حادثے پر گہرا افسوس ظاہر کیا اور متاثرہ اہلکاروں کے اہلِ خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی کردی، پیٹرول کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ

بھارت: ریاست بہار کے وزیراعلیٰ نے تقریب میں مسلمان خاتون کا نقاب کھینچ دیا، شدید تنقید کا سامنا

چیف جسٹس کے قتل پر اکسانے کا الزام، کالعدم ٹی ایل پی کے رہنما ظہیر الاسلام کو 35 سال قید کی سزا

تعلیمی اداروں سے منشیات کے خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی بنانے کا فیصلہ

پی ٹی آئی کے بیانات کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ہیں، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ

ویڈیو

فیض حمید کے بعد جنرل باجوہ کا نمبر؟ سہیل آفریدی کی پالیسی مکمل ناکام

خیبر پختونخوا میں بھی افغان باشندوں کی واپسی کے لیے کارروائیاں شروع، کیا کے پی حکومت وفاق کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہو گئی؟

چارسدہ کا ماحول دوست سروس اسٹیشن: صفائی اور پانی کی بچت ایک ساتھ

کالم / تجزیہ

اگلی بار۔ ثاقب نثار

جرمنی کا ٹاؤن رائٹرز پروگرام پاکستان میں کیوں نہیں؟

شاعرِ مشرق اور مصورِ مشرق کی پتنگ بازی