پی ٹی آئی کا بشریٰ بی بی سے متعلق ’دی اکانومسٹ‘ کی رپورٹ پر شدید ردعمل، قانونی کارروائی کا اعلان

ہفتہ 15 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اعلان کیا ہے کہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے متعلق برطانوی جریدے دی اکانومسٹ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے خلاف قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ جریدے میں شائع کیا گیا مضمون شر انگیز اور جھوٹ پر مبنی ہے، اور پی ٹی آئی اس پر قانونی کارروائی کا پورا حق رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سیاست، روحانیت اور اسٹیبلشمنٹ کا متنازع امتزاج،  عمران خان اور بشریٰ بی بی پر اکانومسٹ کی رپورٹ

بیرسٹر گوہر کے مطابق اس قسم کے مضامین سے بشریٰ بی بی کو توڑا نہیں جا سکتا، ایسے آرٹیکل اسپانسرڈ ہوتے ہیں، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ اس رپورٹ کا اصل ہدف عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ بشریٰ بی بی ہمت کے ساتھ حالات کا سامنا کررہی ہیں اور یہ رپورٹ ان کی کردار کشی کی نئی کوشش ہے۔

بیرسٹر گوہر نے یاد دلایا کہ اس سے قبل بھی عدت سے متعلق الزامات لگائے گئے تھے جو عدالت میں غلط ثابت ہوئے۔ ان کے مطابق موجودہ رپورٹ بھی اسی طرح کی من گھڑت کہانی ہے۔

واضح رہے کہ برطانوی جریدے ’دی اکانومسٹ‘ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر خصوصی رپورٹ میں لکھا ہے کہ سابق وزیراعظم کی بشریٰ بی بی سے تیسری شادی نے ناصرف ان کی ذاتی زندگی بلکہ ان کے انداز حکمرانی پر بھی سوالات کھڑے کیے۔

مزید پڑھیں: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی تنہائی میں ملاقات کے لیے درخواست کی سماعت

رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم کے قریبی حلقوں نے بتایا ہے کہ بشریٰ بی بی اہم تقرریوں اور روزمرہ سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی تھیں جس سے عمران خان کے فیصلہ سازی کے عمل پر ’روحانی مشاورت‘ کا رنگ غالب ہونے کی شکایت پیدا ہوئی، بشریٰ بی بی کے روحانی اثر کے نتیجے میں عمران خان اپنے اعلان کردہ اصلاحاتی ایجنڈے کو نافذ کرنے میں ناکام رہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp