لالو پرساد یادو کی بیٹی روہنی آچاریہ نے اپنے خاندان اور آر جے ڈی سے علیحدگی کے ایک دن بعد نئے انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مسلسل ذلت، گالی گلوچ اور یہاں تک کہ چپل سے مارنے کی کوشش جیسے رویّوں کا سامنا کرنا پڑا۔
روہنی کے مطابق ان کی خودداری اور سچائی پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے انہیں یہ سب برداشت کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیے انتخابات میں شکست: لالو پرساد یادو کی بیٹی نے سیاست اور خاندان سے لاتعلقی کا اعلان کردیا
اتوار کو ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا:
’کل ایک بیٹی، ایک بہن، ایک شادی شدہ عورت اور ایک ماں کی تذلیل کی گئی، اس پر گندی گالیاں برسائی گئیں، چپل اٹھا کر مارنے کی کوشش کی گئی۔ میں نے اپنی خودداری پر سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی سچ سے پیچھے ہٹی، اسی لیے مجھے یہ بےعزتی سہنی پڑی۔‘
روہنی نے کہا کہ مجبوری کے عالم میں انہیں اپنے روتے ہوئے والدین اور بہنوں کو چھوڑ کر گھر سے جانا پڑا۔
انہوں نے مزید کہا ’انہوں نے مجھے میرے اپنے ہی میکے سے الگ کر دیا… مجھے یتیم بنا دیا… اللہ کرے کسی کی زندگی میں ایسا وقت نہ آئے۔‘
روہنی نے گزشتہ روز یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ تیجسوی یادو کے قریبی 2افراد نے انہیں یہ کہہ کر سیاست چھوڑنے اور خاندان سے رشتہ توڑنے کے لیے کہا کہ انہوں نے اپنے والد کے لیے ’گندی کِڈنی ٹرانسپلانٹ‘ کروائی اور کروڑوں روپے لیے۔














