عدالتی اصلاحات، اسپیشل اور سینیئر سیکریٹری کے عہدے ختم، نومنتخب وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور کے اہم اعلانات

پیر 17 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نومنتخب وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے عدلیہ میں اصلاحات، اسپیشل سیکریٹری اور سینیئر سیکریٹری کے عہدے ختم کرنے سمیت اہم اعلانات کردیے۔

چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد پیپلز پارٹی کے امیدوار راجا فیصل ممتاز راٹھور آزاد کشمیر کے 16ویں وزیراعظم منتخب ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب، فیصل ممتاز راٹھور وزیراعظم آزاد کشمیر منتخب

ایوان میں پہلا خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اللہ رب العزت  کا شکر ہے کہ مجھ جیسے سیاسی کارکن پر وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری ڈالی، یہ میرے لیے اعزاز ہے۔ ہم نے کم وقت میں ڈلیور کرنا ہے۔

انہوں نے کہاکہ میرے آج سے دس پندرہ سال کے پہلے کے اثاثے اور جب یہاں سے جاؤں گا اس وقت  کے بھی اپنے اثاثے دکھا کر جاؤں گا۔ اخلاص اور دیانتداری سے معاملات لیکر چلوں گا۔

فیصل ممتاز راٹھور نے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو نے میرے والد راجا ممتاز حسین راٹھور  کو سینیئر وزیر، محترمہ بینظیر بھٹو نے میرے والد کو وزیراعظم اور بلاول بھٹو زرداری نے مجھ پر اعتماد کر کے مجھے بھی قائد ایوان نامزد کیا جس پر ان کا شکرگزار ہوں، یہ اعتماد نصف صدی سے ہے۔

انہوں نے کہاکہ صدر پاکستان آصف علی زرداری،  بلاول بھٹو زرداری، فریال تالپور، چوہدری ریاض، وزیراعظم شہباز شریف، اپنی پارلیمانی پارٹی اور تمام ممبران اسمبلی کا شکرگزار ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ذمہ داری مجھ اکیلے نے نہیں بلکہ ان سب نے لی ہے جنہوں نے مجھے ووٹ دیا۔ ہماری شکل اور لباس پر مت جائیں سفید پوشی سے سیاست کررہے ہیں۔

’یہ تاثر غلط ہے کہ حکمران طبقہ عیاشیاں کرتا ہے‘

انہوں نے کہاکہ یہ تاثر غلط ہے کہ حکمران طبقہ صرف عیاشیوں اور ذاتی مفادات کے لیے آتے ہیں، سب سے بڑی قربانی ہی سیاست دان دیتا ہے۔ میرے والد بڑے عہدوں پر فائز رہے لیکن ساری زندگی میں دوستوں کے تعاون سے صرف ایک مکان بنایا جو میں نے 2021 کے الیکشن میں بیچ دیا۔

انہوں نے کہاکہ موجودہ دورہ بیانیے کا دور ہے۔ جو ممبران اسمبلی پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے اگر ہم حکومت نہ بھی بناتے تو انہوں نے پیپلز پارٹی میں ہی شامل ہونا تھا۔ یہاں بیٹھا کوئی شخص عقل کل نہیں، سیکھنے کا عمل قبر تک جاری رہتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کو یقین دلاتا ہوں کہ فنڈز کی تقسیم سمیت دیگر امور میں ان کے ساتھ تعاون کروں گا۔

انہوں نے کہاکہ  جو قربانیوں افواج پاکستان نے ہمارے لیے دیں اس کی مثال نہیں ملتی، زلزلہ ہو یا سیلاب یا بنیان مرصوص ہر مرحلے پر افواج پاکستان نے ہمارے سر فخر سے بلند کیے۔

’لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب بسنے والے کشمیریوں کو بھی سلام عقیدت پیش کرتا ہوں وہ وقت دور نہیں جب مقبوضہ جموں و کشمیر بھی آزاد ہوگا۔‘

’صرف چہرہ نہیں نظام میں بھی تبدیلی محسوس ہوگی‘

نومنتخب وزیراعظم نے کہاکہ انشااللہ صرف چہرہ نہیں نظام بھی تبدیلی محسوس ہوگی اور یہی ہماری اصل کامیابی ہوگی۔ سیکریٹری صاحبان ایک گاڑی استعمال کرنے کے مجاز ہوں گے۔ سیکریٹریز کی تعداد 20 سے زیادہ نہیں ہوگی، سینیئر ایڈیشنل سیکریٹریز اور ایڈیشنل سیکرٹریز کی آسامیاں ختم کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔ ڈاؤن سائزنگ کا پراسس نچلی سطح تک لے کر جائیں گے۔ جبکہ عدلیہ میں بھی اصلاحات کریں گے۔

انہوں نے کہاکہ ٹیوٹا کو محکمہ تعلیم میں ضم کرنے، ازسر نو  ٹرانسپورٹ پالیسی مرتب کرنے کا اعلان کرتا ہوں، ٹرانسپورٹ پالیسی مرتب ہونے تک گریڈ 18 سے نیچے ماسوائے انتظامیہ، پولیس اور مانیٹرنگ کرنے والے اسسٹنٹ انجینیئرز کے علاوہ  کوئی افسر سرکاری گاڑی استعمال نہیں کرے گا۔

فیصل راٹھور نے کہاکہ تمام محکمہ جات ایک ہفتہ میں اضافی سرکاری گاڑیاں سرکاری ٹرانسپورٹ پول میں جمع کروانے کے پابند ہوں گے، بائیو میٹرک پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ پبلک سروس کمیشن کو فعال کرنے اور یکم جنوری  2020 تک پی ایس سی کے ذریعے مشتہر ہونے کے بعد واپس لی جانے والی آسامیوں کے نوٹیفکیشن منسوخ کرنے کا اعلان کرتاہوں، پبلک سروس کمیشن ایک ماہ میں ان پر امتحان لے کر اہل امیدواران  کا تقرر کرے گا۔

’گریڈ 18 تک جملہ آسامیاں جن  کی تقرری کا کوٹہ 100 فیصد ہے کے علاوہ تمام آسامیوں پر تقرری کے لیے براہ راست کو ٹہ کم از کم 50 فیصدمقرر کرنے کا اعلان کرتاہوں، تمام محکمہ جات ایک ماہ میں عملدرآمد کریں گے، ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق تھرڈ پارٹی ایکٹ پر مکمل عملدرآمد کا اعلان کرتاہوں۔‘

فیصل راٹھور نے کہاکہ ایکٹ کے تحت نہ صرف سرکاری محکمہ جات بشمول لوکل گورنمنٹ بورڈ،  پی ڈی او، ترقیاتی ادارہ جات اور اے جے کے بینک میں بھی  تھرڈ پارٹی ایکٹ کے نفاذ کا اعلان کرتا ہوں۔ تمام محکمہ جات کے لیے یکساں ٹائم اسکیل پالیسی، گریڈ 19 سے اوپر کسی کو ٹائم سکیل نہیں دیاجائے گا۔

’کھلی کچہریاں لگانے کا اعلان‘

نومنتخب وزیراعظم نے کہاکہ جہاں سیکشن آفیسرز اور اے ڈی کی آسامیاں موجود ہیں وہاں نگران کی جملہ آسامیوں کو ختم کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔ عوامی شکایات کو دور کرنے کے لیے وزیراعظم ، وزرا، چیف سیکریٹری، سیکریٹریز اور سربراہان محکمہ جات ہر ضلع میں کھلی کچہریاں لگائیں گے، اس کے علاوہ وزیراعظم اور چیف سیکریٹری آفس میں شکایات باکس لگائے جائیں گے جو ہر 15 روز بعد وزیراعظم اور چیف سیکریٹری کی نگرانی میں کھولے جائیں گے ۔

انہوں نے کہاکہ عوام کو انتظامی انصاف کی فراہمی کے لیے اعلیٰ عدلیہ کی مشاورت سے عدالتی اصلاحات لانے کا اعلان کرتا ہوں۔ ہائیڈل پراجیکٹ کے حوالے سے مسلم لیگ ن کی لیڈر شپ کے ساتھ ملکر وفاقی حکومت سے معاہدہ یقینی بنایا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہاکہ انٹرنیٹ کی رفتار کو تیز کرنے سمیت لوکل گورنمنٹ سسٹم کو مضبوط بنانا بھی ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے کہاکہ راجا ممتازحسین راٹھور حسین کے فرزند کی طرف سے چھوٹے ملازمین ہمیشہ توقعات وابستہ رکھتے ہیں ان کی دلجوئی کے لیے اسکیل ایک کے تمام ملازمین جو مستقل آسامیوں پر تعینات ہیں اور ان پر عدالتی مقدمات نہیں اور کسی کا حق عود متاثر نہیں ہورہا ان سب کو مستقل کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔

انہوں نے مزید کہاکہ اسکیل ایک کے جملہ ملازمین کو ایک اضافی تنخواہ دینے کا اعلان کرتا ہوں جو محکمہ جات اپنے ترقیاتی بجٹ سے دینے کے پابند ہوں گے،

’ڈرائیورز کی اسامیوں کو اسکیل 5 میں اپ گریڈ کرنے کا اعلان‘

فیصل راٹھور نے کہاکہ تمام ڈرائیورز کی آسامیوں کو بی 5 میں اپ گریڈ  کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔ پولیس کانسٹیبلز کی تمام مراعات کو پنجاب کے برابر نیز وی آئی پیز کے ساتھ ڈیوٹی سرانجام دینے والے پولیس ملازمین کو دیگر ملازمین کی طرح ٹی اے ڈی اے دیے جانے کا اعلان کرتاہوں۔

انہوں نے کہاکہ آزادکشمیر کی جملہ جیلوں میں موجود قیدیوں کی سزا میں 60 ایام کی معافی کا اعلان کرتا ہوں تاہم یہ اطلاق حدود قصاص، دیت، جاسوسی، ملک دشمن سرگرمی اور دہشتگردی کے مقدمات میں سزا یافتہ قیدیوں پر نہیں ہوگا۔

نومنتخب وزیراعظم نے کہاکہ آج سیاسی جمود ٹوٹا ہے۔ آج یہاں جو ماحول دیکھا گیا وہ سیاسی جماعت کی حکومت بننے کی وجہ سے ہے، شاید لوگ سیاسی جماعت کی حکومت کے منتظر تھے۔ اندازہ ہے یہ کرسی کانٹوں کی سیج ہے پھولوں کا بستر نہیں لیکن اگر ساتھیوں اور سیاسی کارکنان کا تعاون رہا تو یہ پھولوں کی سیج بن سکتا ہے۔

انہوں نے انوارالحق پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ سابق وزیراعظم کا قلم اس وقت چلتا تھا جب ریاست میں بھونچال آجاتا تھا۔ پچھلی حکومت کے فیصلے تاخیر کی وجہ سے خراب ہوئے۔ میرے پاس جذبہ اورخدمت کی  لگن ہے۔

’ایکشن کمیٹی ایک حقیقت، اسے ساتھ لے کر چلنا ہے‘

ایکشن کمیٹی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  ایکشن کمیٹی ایک حقیقت ہے اسے ساتھ لے کر چلنا ہے، ایکشن کمیٹی کے ساتھ کئی مرتبہ مذاکرات ہوئے، عوام کے مسائل حل ہونے ہی ہیں لیکن اپنی چادر دیکھ کر، ریاست کے وزیراعظم ہونے کی حیثیت سے جو معاملہ قلم کی طاقت سے حل ہوتا ہوا تو ایک لمحہ کی تاخیر نہیں ہوگی۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر کے نومنتخب وزیراعظم راجا فیصل ممتاز راٹھور کون ہیں؟

انہوں نے کہاکہ چیئرمین بلاول بھٹو نے ایکشن کمیٹی کے مطالبات کے حوالے سے کہا ہے کہ جو معاملات آزادکشمیر حکومت کے دائرہ اختیار میں ہیں ان کو حل کرنے میں بالکل تاخیر نہ کروں اور جو کام حکومت پاکستان کے ہیں اس کی ضمانت ہم دیتے ہیں۔

’اگر ان 8 سے 9 ماہ میں ہم نے ڈلیور کیا اور پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر دوبارہ حکومت بنا لی تو اگلے انتخابات کے بعد میں بطور ایم ایل اے بھی فخر کروں گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp