جنرل فیض حمید کا کورٹ مارشل مکمل، فیصلہ کسی بھی وقت متوقع ہے، فخر درّانی

جمعہ 21 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تحقیقاتی صحافت کے حوالے سے شہرت رکھنے والے سینیئر صحافی فخر دُرّانی نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف کورٹ مارشل کا ٹرائل فارمل طور پر 13 نومبر کی شب ڈیڑھ بجے مکمل ہو چکا ہے اور فیصلے کا اعلان ’کسی بھی وقت‘ متوقع ہے۔ ٹرائل کا عمل تقریباً 11 ماہ جاری رہا، جو فوجی افسران کے خلاف ہونے والے مقدمات میں ایک غیر معمولی طور پر طویل کارروائی ہے۔

وی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کورٹ مارشل کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد فائل جج ایڈووکیٹ جنرل برانچ کو بھجوائی جاتی ہے، جہاں قانونی جانچ پڑتال میں 5 سے 7 دن لگتے ہیں، جس کے بعد معاملہ کنویننگ اتھارٹی اور پھر آرمی چیف کے حتمی دستخط کے لیے جاتا ہے۔

’13  نومبر کو کارروائی مکمل ہوئی، اس حساب سے 20 نومبر کے بعد کسی بھی دن فیصلہ سامنے آسکتا ہے‘۔

پراسیکیوشن اور دفاعی ٹیموں دونوں سے بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف میں پُراعتماد ہیں، تاہم 11 ماہ کے ٹرائل اور ثبوتوں کی بنیاد پر یہ کہنا غلط ہوگا کہ کوئی سزا نہیں ہوگی۔

فخر دُرّانی نے کہا کہ فوج کے اندر کسی افسر کے لیے سب سے سخت سزا جیل نہیں بلکہ رینک اور مراعات کی واپسی تصور کی جاتی ہے۔

’ممکنہ طور پر جنرل فیض حمید کا رینک واپس لیا جاسکتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ ایک عام شہری کے مساوی ہو جائیں گے‘۔

فخر دُرّانی نے کہا کہ اگرچہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سنگین سزا ممکن ہوتی ہے لیکن موجودہ شواہد کی نوعیت ایسی نہیں کہ سزائے موت کا اطلاق ہو سکے۔

آئی ایس پی آر کی 6 دسمبر کی پریس ریلیز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ چارج شیٹ میں 3 اہم الزامات شامل تھے۔ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی شخصیات سے مبینہ روابط، اور اسلام آباد کی ہاؤسنگ سوسائٹی ’ٹاپ سٹی‘ میں اختیارات کے ناجائز استعمال اور کرپشن سے متعلق الزامات۔

ان کے مطابق تحقیقات میں کرپشن اور مس یوز آف اتھارٹی سے متعلق شواہد فراہم کرنے والے گواہان میں فوجی اور سویلین دونوں شامل تھے۔

ایک سوال کے جواب میں فخر دُرّانی نے کہا کہ جنرل فیض حمید کے خلاف کارروائی کا براہِ راست سیاسی سیاق و سباق ہے اور یہ عمل پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت، خصوصاً عمران خان کے مقدمات پر بھی اثرانداز ہوسکتا ہے۔

’فوج کے اندر خود احتسابی کا پیغام دیا جارہا ہے اور توقع کی جاسکتی ہے کہ 9 مئی سے متعلق مقدمات کا فیصلہ بھی جلد سامنے آئے‘۔

انہوں نے بتایا کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ اس مقدمے میں نہ تو ملزم ہیں، نہ وعدہ معاف گواہ اور نہ ہی کسی فریق نے انہیں بطور گواہ طلب کیا۔ فیض حمید کے خلاف جو الزامات ہیں ان کی بڑی حد تک نوعیت پوسٹ ریٹائرمنٹ سرگرمیوں سے متعلق ہے، اس لیے اس معاملے میں سابق آرمی چیف کا ٹرائل بنتا ہی نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم