وفاقی آئینی عدالت: پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کیخلاف اپیل پر حکومت کو نوٹس جاری

منگل 25 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے خلاف اپیل پر حکومت کو نوٹس جاری کردیا ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں آئینی عدالت کے 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔

اپیل بیرسٹر گوہر علی خان کی طرف سے دائر کی گئی تھی، جبکہ وکیل سمیر کھوسہ نے مقدمے کی پیروہ کی۔

یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس تنہا فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

وکیل سمیر کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے رولز آئینی عدالت کے لیے بھی قابل اطلاق ہیں اور رولز کے مطابق 5 رکنی بینچ اپیل پر سماعت نہیں کر سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں فیصلہ تبدیل کرنے کے لیے 7  رکنی یا اس سے بڑے بینچ کی ضرورت ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے سماعت کے دوران کہا کہ نوٹس جاری کرنے کی حد تک تو کوئی مسئلہ نظر نہیں آ رہا۔

مزید پڑھیں: مسلم لیگ ن کا لایا ہوا پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ خود اس کے لیے کیسے نقصاندہ ثابت ہوا؟

لیکن انہوں نے واضح کیا کہ فیصلہ کی نوعیت اور بینچ کی تعداد کے معاملے پر عدالت آئینی حدود کے اندر خود طے کرے گی کہ کتنے ججز اپیل سنیں گے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ آئینی عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ پر آرٹیکل 189 کے تحت لاگو ہوتا ہے۔

ان کے مطابق چونکہ یہ عدالت الگ ہے لہذا ججز کی تعداد کم یا زیادہ ہونے سے کوئی قانونی فرق نہیں پڑتا۔

عدالت نے سماعت کے بعد حکومت کو پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے خلاف نوٹس جاری کر دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp