جے یو آئی رہنما فرخ کھوکھر پولیس کارروائی پر برہم، ہائیکورٹ جانے کا اعلان

جمعرات 27 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی–ف) کے رہنما فرخ کھوکھر نے خودکار اسلحے کے لائسنس نہ ہونے پر ایک روز قبل پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے اور بعد ازاں رہائی کے واقعے پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کارروائی کو بلاجواز قرار دیا ہے۔

رہائی کے بعد جاری ہونے والی ایک ویڈیو بیان میں فرخ کھوکھر نے کہا کہ وہ اس اقدام کے خلاف ہائیکورٹ میں رٹ دائر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے بتایا جائے کہ مجھے کیوں روکا گیا؟ اگر کوئی ذاتی اختلاف ہے یا کوئی قانونی غلطی مجھ سے سرزد ہوئی ہے تو واضح کیا جائے، ورنہ مجھے کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے‘۔

انہوں نے کہا کہ اگر وہ کسی غیرقانونی کاروبار میں ملوث ہیں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، تاہم اگر ایسا نہیں ہے تو انہیں بلا وجہ ہراساں نہ کیا جائے۔ فرخ کھوکھر کا کہنا تھا کہ پولیس میں اچھے افسر موجود تھے، مگر وہ بھی اوپر سے آنے والے احکامات کے باعث مجبور تھے۔

اپنے بیان میں انہوں نے ریاستی اداروں سے اپیل کی کہ ان کی بےگناہ گرفتاری کی تحقیقات کرائی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک انہیں عزت و احترام ملتا ہے، جبکہ پاکستان میں انہیں ایسے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے دل برداشتہ ہو کر کبھی کبھی وہ ملک چھوڑنے کا سوچتے ہیں کیونکہ یہ ملک اب محفوظ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جے یو آئی رہنما فرخ خان کھوکھر کی تھانہ منتقلی اور رہائی

فرخ کھوکھر نے مزید کہا کہ وہ ہمیشہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں۔ ہم آپ کے ساتھ بارڈر تک جانے کو تیار ہیں، دہشتگردوں کو پکڑیں، مگر اپنے ہی لوگوں کو بلاوجہ مت روکیں۔ میں نے ہمیشہ پولیس کے حق میں ویڈیوز بنائی ہیں۔

واضح رہے کہ چند ماہ قبل فرخ کھوکھر نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کرکے جمعیت علماء اسلام میں شمولیت اختیار کی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp