بھارت کے کچھ علاقوں میں آج بھی رائج قدیم رسم پولیانڈری (Polyandry) انسانی حقوق اور خواتین کے وقار کے لیے شدید خطرہ بن گئی ہے۔ اس رسم میں ایک خاتون کو بیک وقت متعدد مردوں کی شریکِ حیات ہونا پڑتا ہے، جسے بھارت سرکار ثقافتی ورثہ اور 5 ہزار سالہ تہذیب کا نام دیتی ہے۔

خواتین کے حقوق کے کارکنان اس روایت کو نہ صرف غیر انسانی بلکہ غیر منصفانہ قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ عورت کی مرضی اور اختیار کو مکمل طور پر نظر انداز کرتی ہے۔
🚨 یہ ہے وہی “پانچ ہزار سالہ تہذیب” جس کا بھارت دعویٰ کرتا ہے: ایک بیوی، پانچ شوہر۔ pic.twitter.com/vJGeOrDgq9
— Kashmir Urdu | کشمیر اردو (@KashmirUrdu) November 29, 2025
ان کے مطابق کوئی بھی رسم یا روایت عورت کے بنیادی حقوق اور شخصی آزادی کے اوپر فوقیت نہیں رکھ سکتی۔

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے تہذیب یا ثقافت کا نام دے کر جائز قرار دینا سراسر غیر منطقی ہے، اور ایسے مظالم کو اب ختم کرنا معاشرتی انصاف کی ضرورت ہے۔

خواتین کے حقوق کی تنظیمیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ بھارت کی مودی سرکار اور مقامی انتظامیہ فوری اقدامات کرت ہوئے لوگوں میں شعور بیدار کرے اور شادی کے معاملات میں رضامندی، برابری اور آزادی کو یقینی بنایا جائے۔














