سرحدی بندش اور بارشوں کی کمی سے چلغوزے کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی

منگل 2 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ملک میں چلغوزے کی قیمتوں میں 50 سے 60 فیصد تک نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ایک کلو چلغوزہ، جس کی قیمت پہلے 15 ہزار سے 18 ہزار روپے کے درمیان تھی، اب گھٹ کر 6 ہزار سے 9 ہزار روپے رہ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دیامر کے چلغوزے بہت زیادہ مہنگے کیوں ہوتے ہیں؟

بلوچستان کے ضلع ژوب اور شیرانی میں اس سیزن کے دوران چلغوزہ 3 ہزار سے 5 ہزار روپے فی کلو تک بھی فروخت ہوا ہے۔

بلوچستان کے کسانوں اور تاجروں کے مطابق پاک افغان بارڈر کی بندش اور بارشوں کی کمی اس نمایاں کمی کی بنیادی وجوہات ہیں۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ کسٹمز حکام کی جانب سے ٹرکوں کو گھنٹوں روکنے سے نہ صرف تاخیر ہوتی ہے بلکہ چلغوزے کا معیار بھی متاثر ہوتا ہے۔

تاجروں نے شکایت کی کہ چلغوزہ ایک نہایت حساس، مہنگا اور جلد خراب ہونے والا خشک میوہ ہے، جس کی قدر معمولی تاخیر سے بھی کم ہوجاتی ہے۔

مزید پڑھیں: بنوں کی قدیم چلغوزہ منڈی جہاں سے یہ سوغات دنیا بھر میں برآمد کی جاتی ہے

ان کا کہنا ہے کہ ٹرکوں کو اگر کئی گھنٹوں یا پورا دن روک لیا جائے تو قیمت فوراً گر جاتی ہے۔

چلغوزے کی قیمت میں نمایاں کمی وجوہات جو بھی ہوں، صارفین اس کمی سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چلغوزے کو اگر کولڈ اسٹوریج میں نہ رکھا جائے تو اس کا وزن کم ہونے لگتا ہے۔

بلوچستان میں کولڈ اسٹوریج سہولیات کی کمی کے باعث تاجر چلغوزہ سستے داموں فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔

اسی وجہ سے مقامی طور پر شہروں چلغوزے کی میں قیمت میں مزید کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں