خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں قائم چلغوزے کی آزاد منڈی 1962 سے فعال ہے، جسے ایشیا کی سب سے بڑی چلغوزہ منڈی کہا جاتا ہے۔ یہاں شمالی وزیرستان، خصوصاً شوال وادی سے لایا جانے والا چلغوزہ خریدا اور بیچا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: چلغوزہ کی قیمت گزشتہ برس کی نسبت کم کیوں؟
چلغوزہ دنیا کے مہنگے ترین خشک میوہ جات میں شمار ہوتا ہے اور اپنی لذت، افادیت اور منفرد ذائقے کی بدولت خاص اہمیت رکھتا ہے
چلغوزہ کا سیزن ہر سال اکتوبر سے دسمبر تک جاری رہتا ہے۔ اس دوران شوال کے پہاڑی جنگلات سے چلغوزہ توڑا جاتا ہے، جسے پہلے شوال کے مقامی مراکز میں جمع کیا جاتا ہے، بعد ازاں یہ آزاد منڈی میں پہنچتا ہے، جہاں بولی کے ذریعے اس کی قیمت طے کی جاتی ہے۔
خریداری کے بعد مال مقامی گوداموں میں محفوظ کیا جاتا ہے، جہاں سے پراسیسنگ کے لیے اسے لاہور اور دیگر شہروں کو بھیج دیا جاتا ہے۔ لاہور میں موجود فیکٹریوں
مزید پڑھیں: دیامر کے چلغوزے بہت زیادہ مہنگے کیوں ہوتے ہیں؟
میں چلغوزے کی صفائی، چھلائی اور پیکنگ کی جاتی ہے، جس کے بعد یہ پاکستان سمیت چین، افغانستان، دبئی اور دیگر ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے۔
چلغوزے کے اس کاروبار سے زیادہ تر شمالی اور جنوبی وزیرستان کے لو گ براہِ راست وابستہ ہیں۔ 2004 سے قبل بنوں ملک کی سب سے بڑی چلغوزہ منڈی تھی، مگر سیکیورٹی حالات کے باعث مقامی پراسیسنگ انڈسٹری ختم ہو گئی۔ وانا میں قائم واحد چلغوزہ پلانٹ بھی بند کر دیا گیا، جس سے مقامی معیشت کو نقصان پہنچا
تاجران کا کہنا ہے کہ حکومت صوبے میں چلغوزے کی پیداوار بڑھانے پر توجہ دے تو خیبر پختونخوا کی معیشت مضبوط ہو سکتی ہے اور قبائلی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں












