بالی وڈ کی معروف اداکارہ جھانوی کپور نے میڈیا اور سوشل میڈیا کے رویوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ دور میں تجسس پسندی نے انسانی احساسات اور اخلاقیات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
’وی دی ویمن 2025‘ ایونٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ لیجنڈری اداکارہ سری دیوی کی وفات کو بھی غیر سنجیدہ انداز میں موضوعِ بحث بنا کر ’میم‘ میں تبدیل کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا بالی ووڈ اداکارہ جھانوی کپور شادی کر رہی ہیں؟
جھانوی کپور نے کہا کہ وہ اپنی والدہ کی موت کے بارے میں عوامی سطح پر بات کرنے سے گریز کرتی ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ لوگ اسے شہ سرخیوں کے لیے استعمال کیا جانا سمجھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سری دیوی کی 2018 میں وفات ان کی زندگی کا سب سے ذاتی اور صدمہ انگیز تجربہ تھا، جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صحافت، میڈیا کلچر اور آج کے سوشل میڈیا کی تجسس پسندی نے انسانی اخلاقیات کو مکمل طور پر پٹری سے اتار دیا ہے اور میں اسے ہر روز بڑھتے ہوئے دیکھ رہی ہوں۔ جب میں نے اپنی ماں کو کھویا تو وہ بہت خوفناک وقت تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ لوگ تصور بھی کر سکتے ہیں کہ اپنے اتنے قریبی شخص کو کھونا کیسا ہوتا ہے اور پھر اس عمل کو ایک میم بنتے دیکھنا۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اسے کیسے بیان کروں مگر صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے‘۔
یہ بھی پڑھیں: سوناکشی سنہا کی طلاق اور بالی ووڈ کے 2 بڑے خانز کی موت، ماہر نجوم کی پیشگوئی
ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت میں نے جو محسوس کیا میں کبھی بھی اسے بیان نہیں کر پاؤں گی اور میں ہمیشہ اس بات سے محتاط رہتی ہوں کہ کہیں ایسا نہ لگے کہ میں لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے بات کر رہی ہوں۔ اسی لیے میں ہمیشہ پیچھے ہٹ جاتی ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ ہر کوئی موقع پرست ہے اور ہر کوئی صرف ایک ہیڈ لائن چاہتا ہے۔ مجھے نفرت ہوگی اگر کبھی یہ محسوس ہو کہ میں اپنی زندگی کے اتنے تکلیف دہ حصے یا اپنی ماں کے ساتھ رشتے کو کسی سرخی کے لیے استعمال کر رہی ہوں اسی لیے میں رک جاتی ہوں‘۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے کس بالی ووڈ اداکارہ کے ساتھ تعلقات کے چرچے رہے؟
انہوں نے 11 نومبر کو دھرمیندر کے بارے میں پھیلنے والی جھوٹی خبروں کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دھرم جی کے ساتھ جو ہویا ہوا دیکھا مجھے یقین ہے کہ یہ صرف بد سے بدتر ہوگا۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہم خود بھی اس مسئلے کا حصہ ہیں۔ جب بھی ہم ان ویڈیوز سرخیوں یا بیانیوں کو ویوز، کمنٹس یا لائکس دیتے ہیں۔ جب بھی ہم ایسی چیزیں تلاش کرتے ہیں، ہم اسی کلچر کو بڑھاوا دیتے ہیں۔














