بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی یعنی بی این پی کی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیا کو ممکنہ طور پر آج رات نصف شب کے بعد یا جمعہ کی صبح لندن منتقل کیا جا سکتا ہے۔
سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم کے ذاتی معالج اور بی این پی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن پروفیسر ڈاکٹر اے زیڈ ایم زاہد حسین نے جمعرات کو ایور کیئراسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو میں اس کی تصدیق کی۔
یہ بھی پڑھیں:چیف ایڈوائزر بنگلہ دیش محمد یونس کی اسپتال جاکر خالدہ ضیا کی عیادت
ڈاکٹر زاہد کے مطابق لندن منتقلی کے تمام انتظامات مکمل ہیں، قطری ایئرایمبولینس سابق وزیرِاعظم کو مزید علاج کے لیے لے جائے گی اور روانگی کا حتمی فیصلہ ڈاکٹرز کی کلیئرنس سے مشروط ہے۔
মধ্যরাতের পর কিংবা আগামীকাল সকালে খালেদা জিয়াকে লন্ডন নেওয়া হবে: এ জেড এম জাহিদ
উন্নত চিকিৎসার জন্য কাতার সরকারের পাঠানো বিশেষ এয়ার অ্যাম্বুলেন্সে আগামীকাল লন্ডনে নেওয়া হতে পারে বিএনপি চেয়ারপারসন খালেদা জিয়াকে।#Bangladesh #BNP #KhaledaZia pic.twitter.com/aJh4jIlinI
— The Daily Star (@dailystarnews) December 4, 2025
اسپتال ذرائع نے بتایا کہ خالدہ ضیا گزشتہ 12 دن سے سی سی یو میں زیرعلاج ہیں اور انہیں بیرونِ ملک منتقل کرنے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔
قطر حکومت نے امیر قطر کی خصوصی ایئر ایمبولینس تیار رکھی ہے، خالدہ ضیا کی ذاتی میڈیکل ٹیم سمیت 14 افراد ان کے ہمراہ ہوں گے۔
قطر کے سفارتخانے کا کہنا ہے کہ طبی اجازت ملنے کے ساتھ ہی طیارہ فوری طور پر بنگلہ دیش کے لیے روانہ ہوگا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے طارق رحمان شدید علیل والدہ سے کب ملیں گے؟
دریں اثنا، بی این پی کے سینیئر جوائنٹ سیکریٹری جنرل روح الکبیر رضوی نے نیا پلٹن میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ خالدہ ضیا کی حالت جوں کی توں لیکن نازک ہے، اور انہیں انتہائی نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے۔
خالدہ ضیا گٹھیا، ذیابیطس، گردوں اور پھیپھڑوں کے مسائل اور آنکھوں کی بیماریوں سمیت متعدد دائمی امراض میں مبتلا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: خالدہ ضیا کو علاج کے لیے بیرون ملک منتقل کرنے کی تیاریاں مکمل
اگست 2024 میں عوامی لیگ کی حکومت کے خاتمے کے بعد انہیں رہا کیا گیا تھا۔ وہ جنوری 2025 میں علاج کے لیے لندن گئیں اور 117 روز بعد 6 مئی کو وطن واپس آئیں۔
انہیں 23 نومبرکودوبارہ ایورکیئراسپتال داخل کیا گیا، جہاں ڈاکٹرزان کی صحت کو انتہائی نازک قراردے رہے ہیں۔
اسپتال کے اطراف سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے، کیونکہ حکومت نے بیگم ضیا کو’انتہائی اہم شخصیت‘ قرار دیا ہے۔













