نیویارک ٹائمز نے پینٹاگون کی میڈیا پر پابندیوں کی نئی پالیسی کے خلاف مقدمہ دائر کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: سینئر صحافی اور انسانی حقوق کے علمبردار حسین نقی کو ’احفاظ الرحمن ایوارڈ برائے آزادی صحافت‘ مل گیا
اخبار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ پالیسی آئین کے خلاف ہے اور عدالت سے اس کے نفاذ کو روکنے کی استدعا کی جاتی ہے۔
امریکی اور بین الاقوامی نیوز اداروں اے ایف پی، اے پی، فاکس نیوز اور نیویارک ٹائمز شامل نے اکتوبر کے وسط میں اس نئی پالیسی پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے نتیجے میں ان کے پینٹاگون اسناد منسوخ کردی گئیں۔
مزید پڑھیے: مریم نواز کا آزادی اظہار کی خاطر شہید ہونےوالے برصغیر کے پہلے صحافی مولوی محمد باقر کو خراج تحسین
نیویارک ٹائمز کی درخواست کے مطابق پینٹاگون کی یہ پالیسی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صحافیوں کی اس صلاحیت کو محدود کرتی ہے جو وہ ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں یعنی سرکاری اہلکاروں سے سوالات پوچھنا اور معلومات اکٹھی کرنا تاکہ عوام کو سرکاری بیانات سے آگے کی خبر فراہم کی جاسکے۔
مزید پڑھیں: آئین کی حفاظت میں پیپلزپارٹی اور جے یو آئی کا کردار ہے، ہم خوف اور مجبوری کی سیاست نہیں کرتے، بلاول بھٹو
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر صحافی ایسی کوئی معلومات شائع کرتے ہیں جو پینٹاگون نے منظور نہ کی ہو تو یہ پالیسی اہلکاروں کو کسی بھی وقت بغیر کسی واضح معیار کے ان صحافیوں کے بیجز فوری طور پر معطل اور بعد ازاں منسوخ کرنے کا اختیار دیتی ہے۔














