20 لاکھ روپے تک کے بلا سود قرضے، حکومت نے نوجوانوں کو خوشخبری سنا دی

منگل 9 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر نے نوجوانوں کے لیے بلاسود قرضہ اسکیم کی منظوری دیتے ہوئے ایک لاکھ سے 20 لاکھ روپے تک کے قرضے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ سہولت 18 سے 40 سال تک کے مرد، خواتین اور خواجہ سرا نوجوانوں کو دی جائے گی جو کاروبار شروع کرنے میں دلچسپی رکھتے ہوں اور ریاستی باشندہ ہوں۔

وزیراعظم آزادکشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی منظوری کے بعد محکمہ سمال انڈسٹریز کارپوریشن نے باضابطہ اشتہار جاری کردیا ہے۔

جاری کردہ معلومات کے مطابق قرضہ فارم محکمہ اسمال انڈسٹریز کی آفیشل ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کیے جاسکیں گے، جبکہ انہیں 20 جنوری تک جمع کروایا جا سکے گا۔

محکمہ کے مطابق ہنر مند اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو قرضوں میں ترجیح دی جائے گی۔

قرضے آبادی کے تناسب سے تقسیم کیے جائیں گے اور ان پر کوئی سود نہیں لیا جائے گا، جبکہ سود کی ادائیگی آزادکشمیر حکومت خود کرے گی۔

اس اسکیم کے تحت قرضے دی بینک آف آزاد جموں و کشمیر کے تعاون سے جاری کیے جائیں گے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ریاست میں نوجوانوں کو کاروباری مواقع فراہم کرنا اور معاشی طور پر خود کفیل بنانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سفید جادو، مثبت اور مددگار

متحدہ اپوزیشن کی تشکیل پر اتفاق: کیا مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں یہ اتحاد حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘