کولکتہ میں مشتعل ہجوم نے اسٹار فٹبالر میسی پر بوتلیں برسا دیں

ہفتہ 13 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کولکتہ: عالمی شہرت یافتہ فٹبالر لیونل میسی کے بھارت کے دورے کے موقع پر کولکتہ اسٹیڈیم میں ان کی محدود موجودگی پر شائقینِ فٹبال میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔

یہ بھی پڑھیں:جرمنی میں غیر قانونی نوجوان اور میسی ولیمز کی وائرل کہانی، حقیقت کیا ہے؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق مایوس مداحوں نے پوسٹر توڑے، بوتلیں پھینکیں اور احتجاج شروع کر دیا کیونکہ انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ اسٹیڈیم میں رسائی اور اسٹار فٹ بالر تک رسائی کی سہولیات توقع کے مطابق نہیں ہیں۔

صورتحال جلد ہی کشیدہ ہو گئی اور سیکیورٹی بڑھا دی گئی۔ میسی صرف 10 منٹ اسٹیڈیم میں رہے اور دیگر وی وی آئی پیز کے ساتھ انہیں فوری طور پر باہر نکالا گیا۔

کئی مداح جو گھنٹوں انتظار کے بعد اسٹار کو دیکھنے آئے تھے، میسی کو قریب سے دیکھے بغیر ہی مایوس لوٹ گئے۔

سوشل میڈیا پر منظرنامے کی ویڈیوز وائرل ہو گئیں، جن میں ہنگامہ اور انتشار واضح دکھائی دے رہا ہے، اور یہ موقع جو بھارتی فٹبال کے شائقین کے لیے تاریخی اور خوشیوں بھرا ہونا چاہیے تھا، افسوسناک رہا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کو ترک ریاستوں کی تنظیم ‘او ٹی ایس’ کا مکمل رکن بنایا جائے، ترک رکن پارلیمنٹ علی شاہین کا مطالبہ

ایران امریکا مذاکرات دوسرا دور: سیرینا ہوٹل میں انتظامات میں خاص کیا بات ہے؟

میانمار اسمگلنگ کی کوشش ناکام، بنگلہ دیش نیوی نے 11 افراد کو سیمنٹ سے بھری کشتی سمیت گرفتار کرلیا

پاکستان کی مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے دوران فعال سفارت کاری بنگلہ دیش کے لیے مثال قرار

شاہراہ فیصل پر بینرز: فاطمہ جناح اور فریال تالپور کو ’نظریاتی بہنیں‘ قرار دینے پر ہنگامہ

ویڈیو

لائیوپاکستان کی ایران، امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں جاری

فیلڈ مارشل نے ایران میں امن کے لیے عظیم کام کیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

کالم / تجزیہ

ایک اور گیارہ سے نو دو گیارہ

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟