جرمنی کا ٹاؤن رائٹرز پروگرام پاکستان میں کیوں نہیں؟

پیر 15 دسمبر 2025
author image

مشکور علی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یہ سوال بظاہر سادہ ہے مگر اپنے اندر تہذیبی، سماجی اور فکری رجحان رکھتا ہے کہ جرمنی کا ٹاؤن رائٹرز پروگرام پاکستان میں کیوں نہیں؟ یا یوں کہیے، پاکستان میں شہر اور ادیب کے درمیان وہ بامعنی رشتہ کیوں قائم نہ ہو سکا جو جرمنی جیسے معاشروں میں برسوں سے زندہ ہے۔ یہ محض ایک ادبی اسکیم کا فقدان نہیں بلکہ ہمارے مجموعی رویّے، ترجیحات اور اجتماعی شعور کی عکاسی ہے۔

جرمنی میں شہر بولتے ہیں۔ ان کی گلیاں، ریلوے اسٹیشن، پرانی عمارتیں، جنگوں کے زخم اور تعمیرِ نو کے خواب، سب ادب میں ڈھلتے ہیں۔ ٹاؤن رائٹر اس آواز کو سنتا ہے، جذب کرتا ہے اور لفظوں میں منتقل کرتا ہے۔

مزید پڑھیں:عینی آپا تھیں تو پاکستانی

ٹاؤن رائٹرز پروگرام، جسے جرمنی میں Stadtschreiber کہا جاتا ہے، ادب اور شہر کے درمیان ایک زندہ مکالمے کی روایت ہے جس کی جڑیں ماضی کے شاہی اعزازات تک جاتی ہیں۔ ابتدائی دور میں بادشاہوں اور شہزادوں کی جانب سے ادیبوں کو وظیفے دیے جاتے تھے تاکہ وہ دربار کی تقریبات، تاریخی لمحات اور ثقافتی منظرنامے کو شاعری اور نثر میں محفوظ کریں۔

بیسویں صدی کے اوائل میں یہ روایت شہری سطح پر منتقل ہوئی اور ٹاؤن رائٹر کا جدید تصور ابھرا، جہاں شہر کسی ادبی نمائندے کو مدعو کرتا ہے، اسے رہائش اور وظیفہ فراہم کرتا ہے اور تخلیقی آزادی کے ساتھ سماجی، تاریخی اور ثقافتی زندگی کے مشاہدے کا موقع دیتا ہے۔

اس پروگرام کے نتیجے میں ادیب شہر کی روزمرہ زندگی میں شامل ہوتا، مقامی تقریبات میں حصہ لیتا، اسکولوں اور لائبریریوں میں مکالمے کرتا، اور اپنی تخلیقات کو مقامی میڈیا یا دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے پیش کرتا ہے، یوں ادب عوامی سطح پر متحرک رہتا ہے۔

مزید پڑھیں: داستاں سرائے، راجا گدھ اور بانو آپا

1972 اور 1999 کے نوبل انعام یافتگان ہینرک بول (Heinrich Böll)، گنٹر گراس (Günter Grass) سمیت دیگر معروف ادباء نکولس بورن (Nicolas Born)، کریسٹوف رانس مائر (Christoph Ransmayr) اور پیٹر ہین (Peter Härtling) نے اس روایت کا حصہ بن کر شہری زندگی، جنگ کے اثرات، افراد کی جدوجہد اور ذاتی تجربات کو اپنی تخلیقات میں منتقل کیا۔

ٹاؤن رائٹرز پروگرام صرف ادیب کی تخلیقی صلاحیتوں کو ہی نہیں نکھارتا بلکہ شہری شعور کو بھی فروغ دیتا ہے، اور جرمن معاشرے میں ادب اور شہری زندگی کے درمیان ایک گہرا اور متحرک رشتہ قائم کرتا ہے۔

پاکستان میں بھی شہر بولتے ہیں، مگر یہاں بولنے والے کو سننے والا کوئی نہیں۔ لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، ملتان، حیدرآباد ۔ ۔ ۔ ہر شہر ایک ناول ہے، ایک طویل نظم، ایک نہ ختم ہونے والا کالم، مگر ہم نے ان شہروں کو صرف اینٹ، سیمنٹ اور سیاسی نعروں میں قید کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں: جب کہانی ’عبداللہ حسین‘ کے گلے پڑ گئی

جرمنی کا ٹاؤن رائٹرز پروگرام کسی ایک حکومت یا وقتی منصوبے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل ثقافتی روایت کا تسلسل ہے۔ وہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ادیب معاشرے کا غیر سرکاری مؤرخ ہوتا ہے۔ وہ سب کچھ لکھ دیتا ہے جو سرکاری رپورٹوں میں نہیں آتا۔ اسی لیے شہر ادیب کو بلاتے ہیں، اسے گھر دیتے ہیں، وظیفہ دیتے ہیں، وقت دیتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر احترام دیتے ہیں۔

ٹاؤن رائٹر سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ شہر کی تعریف میں قصیدے لکھے۔ وہ تنقید بھی کر سکتا ہے، تلخی بھی دکھا سکتا ہے، اور سچ بھی۔ جرمن معاشرہ اس سچ سے نہیں گھبراتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ تنقید تہذیب کی توہین نہیں بلکہ اس کی تطہیر ہوتی ہے۔

پاکستان میں ادیب کی حیثیت ایک ایسے شخص کی سی ہے جو تقریب میں تو بلایا جاتا ہے مگر فیصلے کی میز پر نہیں۔ ادب کو ہم نے نصابی مضمون، مشاعرے کی تفریح، یا فیس بک پوسٹ تک محدود کر دیا ہے۔ ریاستی اور شہری سطح پر یہ تصور موجود ہی نہیں کہ ادیب بھی کسی شہر کی ضرورت ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

ہم یہاں سڑک، پل، میٹرو اور انڈرپاس کو ترقی سمجھتے ہیں، مگر یہ سوال نہیں اٹھاتے کہ ان سڑکوں پر چلنے والے انسان کس ذہنی، اخلاقی اور جذباتی کیفیت میں زندہ ہیں۔ جرمنی میں ٹاؤن رائٹر اسی کیفیت کو سمجھنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ پاکستان میں ایسی ضرورت کو ہی تسلیم نہیں کیا جاتا۔

پاکستان کے تعلیمی اور انتظامی ڈھانچے پر نوآبادیاتی دور کی گہری چھاپ ہے۔ انگریز کے نزدیک ادیب خطرناک ہوتا تھا، سوال اٹھاتا تھا، اس لیے اسے قابو میں رکھا گیا۔ بدقسمتی سے آزادی کے بعد بھی ہم نے اسی سوچ کو جاری رکھا۔ یہاں طاقتور ادارے سوال سے گھبراتے ہیں، اور ادیب سوال کرنے کا ہنر جانتا ہے۔

جرمنی نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد یہ سبق سیکھا کہ اگر سماج کو دوبارہ انسان دوست بنانا ہے تو ادب، فلسفہ اور فنون کو مرکز میں لانا ہوگا۔ پاکستان نے اس کے برعکس ادب کو حاشیے پر دھکیل دیا۔

ٹاؤن رائٹرز پروگرام کا ایک بنیادی سہارا مضبوط بلدیاتی نظام ہے۔ جرمنی میں شہر صرف انتظامی یونٹ نہیں بلکہ ثقافتی شناخت رکھتے ہیں۔ میئر یہ سمجھتا ہے کہ شہر کی روح بھی ہوتی ہے۔ پاکستان میں بلدیاتی نظام کمزور، غیر مستقل اور بے اختیار ہے۔ ایسے میں ادب جیسے ’نظر انداز‘ شعبے کے لیے کون سوچے؟

مزید پڑھیں: ’آج غالبؔ غزل سرا نہ ہوا‘

ہمارے ہاں شہر کا بجٹ کچرا اٹھانے، سڑکیں بنانے اور اشتہارات لگانے تک محدود ہے۔ ادب، لائبریری اور ’رائٹر ان ریزیڈنس‘ جیسے تصورات فائلوں تک نہیں پہنچ پاتے۔

سچ یہ ہے کہ پاکستان میں ادب سے غیر اعلانیہ خوف موجود ہے۔ اچھا ادب سوال اٹھاتا ہے کہ ہم کون ہیں؟ ہم نے کیا کھو دیا ہے؟ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ ریاستیں اور طاقت کے مراکز ایسے سوالوں سے ہمیشہ خائف رہتے ہیں۔ ٹاؤن رائٹر شہر میں رہ کر یہی سوال اٹھاتا ہے، اس لیے یہ تصور یہاں پنپ ہی نہیں سکا۔

جرمنی کا ٹاؤن رائٹر اسکولوں میں جاتا ہے، لائبریریوں میں بیٹھتا ہے، نوجوانوں سے بات کرتا، بوڑھوں کی کہانیاں سنتا، مہاجرین کے دکھ لکھتا۔ وہ شہری مکالمے کو لفظ دیتا ہے۔ پاکستان میں مکالمہ ہی ناپید ہے۔ یہاں اختلاف کو دشمنی سمجھا جاتا ہے، اور ادیب اختلاف کا فطری نمائندہ ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: محبت کا آخری عجوبہ

اکثر کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے پاس وسائل نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جرمنی کے ہر شہر کے پاس کیا بے پناہ خزانے ہوتے ہیں؟ نہیں۔ فرق وسائل کا نہیں، ترجیحات کا ہے۔ ایک شہر اگر ایک سڑک کم بنا لے اور ایک ادیب کو جگہ دے دے تو قیامت نہیں آ جائے گی۔ مگر ہمیں ادب پر خرچ ’فضول خرچی‘ لگتا ہے۔

کیا پاکستان میں ٹاؤن رائٹر پروگرام ممکن ہے؟ جی ہاں، بالکل ممکن ہے۔ اگر لاہور، کراچی، پشاور یا کسی بھی شہر میں کسی ادیب کو ایک سال کے لیے شہر کا مشاہدہ کرنے، لکھنے اور مکالمہ کرنے کا موقع دیا جائے تو یہ شہر خود کو نئے آئینے میں دیکھ سکتے ہیں۔

پاکستان کے پاس کہانیاں ہیں، دکھ ہیں، خواب ہیں۔ کمی صرف اس بات کی ہے کہ ہم کسی کو انہیں لکھنے کی باقاعدہ اجازت دیں۔ سوال یہ نہیں کہ جرمنی کا ٹاؤن رائٹرز پروگرام پاکستان میں کیوں نہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم بطور معاشرہ ادب کو اپنی ضرورت سمجھتے بھی ہیں یا نہیں؟

مزید پڑھیں: اِک روز مزارِ غالبؔ پر

جب تک ہم ادب کو صرف ماضی کی یاد، مشاعرے کی داد اور نصابی کتب تک محدود رکھیں گے، ٹاؤن رائٹر جیسے تصورات ہمارے لیے اجنبی ہی رہیں گے۔ مگر جس دن ہم نے یہ مان لیا کہ شہر صرف عمارتوں سے نہیں بلکہ کہانیوں سے بنتے ہیں، اس دن شاید پاکستان کا پہلا ٹاؤن رائٹر بھی جنم لے لے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی ٹی آئی دہشتگردی کے خلاف آپریشن کی مخالفت کیوں کرتی ہے؟ علی محمد خان نے بتایا دیا

وہ یوٹیوب ویڈیو جو آپ نے آج دیکھنی شروع کی تو ختم 140 سال بعد ہوگی، آخر ماجرا کیا ہے؟

نئے صوبوں کے بغیر کوئی حل نہیں، سیاسی جماعتوں کو اس پر سوچنا ہوگا، استحکام پاکستان پارٹی کا دوٹوک مؤقف

ڈاکٹر مصدق ملک کا جنگلات کٹائی کے مقامات کا دورہ، ’درخت کاٹنے کے جرمانے میں اضافہ ہو گا‘

پاکستان بار کونسل کے نائب چیئرمین اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی کا انتخاب

ویڈیو

ڈاکٹر مصدق ملک کا جنگلات کٹائی کے مقامات کا دورہ، ’درخت کاٹنے کے جرمانے میں اضافہ ہو گا‘

اسلام آباد گیس لیکج حادثہ، ‘میرا سب ختم ہوگیا، گھر واپس کیسے جائیں گے’

اسلام آباد کی سردی میں سوپ کے لیے لمبی قطاریں، اس میں خاص کیا ہے؟

کالم / تجزیہ

امریکی یلغار: تصویر کے 3 رخ

وزیر اعلیٰ ہو تو سہیل آفریدی جیسا

ہیرا ایک ہی ہے