اینویڈیا نے نئے اوپن سورس اے آئی ماڈلز متعارف کرا دیے، ان کی خصوصیات کیا ہیں؟

پیر 15 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اینویڈیا مصنوعی ذہانت کے نئے اوپن سورس ماڈلز کی ایک فیملی متعارف کرائی ہے، جن کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ اس کے پہلے ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ تیز، کم لاگت اور زیادہ ذہین ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چینی اے آئی لیبارٹریز کے اوپن سورس ماڈلز عالمی سطح پر تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ اینویڈیا عام طور پر ان جدید چپس کے لیے جانی جاتی ہے جو اوپن اے آئی جیسی کمپنیاں اپنے کلوزڈ سورس ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: مصنوعی ذہانت کی چپ بنانے والی کمپنی اینویڈیا کی فروخت دگنی سے بھی زائد

تاہم، کمپنی خود بھی مختلف شعبوں کے لیے اوپن سورس اے آئی ماڈلز فراہم کرتی ہے، جن میں فزکس سیمولیشنز اور خودکار گاڑیاں شامل ہیں۔ پالینٹیر ٹیکنالوجیز جیسی کمپنیاں اینویڈیا کے ماڈلز کو اپنی مصنوعات میں استعمال کر رہی ہیں۔

اینویڈیا نے اپنے “نیموٹران” (Nemotron) بڑے لینگویج ماڈلز کی تیسری نسل متعارف کرائی ہے، جو تحریر، کوڈنگ اور دیگر پیچیدہ کاموں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ ان میں سب سے چھوٹا ماڈل Nemotron 3 Nano پیر کے روز جاری کر دیا گیا، جبکہ اس کے دو بڑے ورژنز 2026 کے پہلے نصف میں متعارف کرائے جائیں گے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ Nemotron 3 Nano اپنے پچھلے ورژن کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہے، یعنی اسے چلانے کی لاگت کم آئے گی، اور یہ طویل اور کئی مراحل پر مشتمل کام بہتر انداز میں انجام دے سکے گا۔

یہ بھی پڑھیے: اوپن اے آئی میں ’کوڈ ریڈ‘ نافذ: گوگل کے ہاتھوں چیٹ جی پی ٹی کی برتری خطرے میں

اینویڈیا کے مطابق، چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں جیسے ڈیپ سیک، مون شاٹ اے آئی اور علی بابا کے اوپن سورس ماڈلز کے بڑھتے استعمال کے پیش نظر، کمپنی اپنے ماڈلز کو بھی اوپن سورس کی صورت میں پیش کر رہی ہے۔ ایئر بی این بی جیسی کمپنیاں علی بابا کے Qwen اوپن سورس ماڈل کے استعمال کا اعتراف کر چکی ہیں۔

دوسری جانب رپورٹس کے مطابق میٹا پلیٹ فارمز (Meta) اپنے ماڈلز کو دوبارہ کلوزڈ سورس بنانے پر غور کر رہی ہے، جس کے بعد اینویڈیا اوپن سورس اے آئی فراہم کرنے والی نمایاں امریکی کمپنیوں میں سے ایک بن سکتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکہ کی کئی ریاستوں اور سرکاری اداروں نے سکیورٹی خدشات کے باعث چینی اے آئی ماڈلز کے استعمال پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ہفتے میں کتنے صارفین چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتے ہیں؟ ٹائم میگزین کی رپورٹ جاری

اینویڈیا میں انٹرپرائز جنریٹو اے آئی کی نائب صدر کاری برسکی نے کہا کہ کمپنی ایک ایسا ماڈل فراہم کرنا چاہتی ہے جس پر صارفین اعتماد کر سکیں۔ ان کے مطابق اینویڈیا تربیتی ڈیٹا اور دیگر ٹولز بھی اوپنلی جاری کر رہی ہے تاکہ سرکاری اور کاروباری صارفین سکیورٹی جانچ سکیں اور اپنی ضروریات کے مطابق ماڈلز کو ڈھال سکیں۔

کاری برسکی نے رائٹرز کو بتایا، ہم اسے ایک لائبریری کی طرح دیکھ رہے ہیں، اور اسی لیے ہم سافٹ ویئر انجینئرنگ کے نقطۂ نظر سے اس کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp