سری لنکا کے سابق ٹیسٹ کرکٹر ڈی ایس ڈی سلوا 83 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

منگل 16 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سری لنکا کے سابق لیگ اسپنر اور سری لنکا کرکٹ کے سابق چیئرمین ڈی ایس ڈی سلوا 83 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق وہ لندن میں مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے۔

مزید پڑھیں:  سابق ٹیسٹ کرکٹر وزیر محمد 95 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

ڈی ایس ڈی سلوا نے 1982 میں سری لنکا کے پہلے ٹیسٹ میچ میں ملک کی نمائندگی کی اور ابتدائی ٹیسٹ دور میں قومی ٹیم کا اہم حصہ رہے۔ انہوں نے 2 ٹیسٹ میچوں میں سری لنکا کی قیادت بھی کی۔

کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد ڈی سلوا نے کوچ، ٹیم منیجر اور قومی سلیکٹر سمیت مختلف ذمہ داریاں انجام دیں۔ 2009 سے 2011 تک وہ سری لنکا کرکٹ کے چیئرمین رہے، جہاں ان کے دور میں ملک بھر میں کئی بین الاقوامی کرکٹ اسٹیڈیمز کی تعمیر اور تکمیل میں اہم کردار ادا کیا گیا۔

مزید پڑھیں: سابق قومی ٹیسٹ کرکٹر محمد نذیر جونیئر انتقال کرگئے

معروف کرکٹ مبصر روشن ابے سنگھے نے سوشل میڈیا پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ڈی سلوا کو دیانت دار، بااصول اور قابلِ احترام منتظم قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایس نے مختلف حیثیتوں میں سری لنکا کرکٹ کی بے لوث خدمت کی اور وہ ہمیشہ اپنے کام کے لیے یاد رکھے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘