بنگلہ دیشی حکام نے سینیئر صحافی انیس عالمگیر کو دہشتگردی کے الزامات کے تحت گرفتار کرنے پر عالمی ادارے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صحافی پر عائد تمام الزامات فوری طور پر ختم کیے جائیں، انہیں بلا شرط رہا کیا جائے اور قومی سلامتی کے قوانین کے ذریعے میڈیا کو نشانہ بنانے کا سلسلہ روکا جائے۔
سی پی جے کے مطابق 15 دسمبر کو پولیس نے انیس عالمگیر اور 3 دیگر افراد کے خلاف بنگلہ دیش کے انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت تفتیش شروع کی۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ٹاک شوز اور سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے مبینہ طور پر پروپیگنڈا کیا اور کالعدم عوامی لیگ پارٹی کو بحال کرنے کی سازش کی۔ یہ بات مختلف مقامی میڈیا رپورٹس میں سامنے آئی ہے۔
سی پی جے کے ایشیا پیسیفک پروگرام کے کوآرڈینیٹر کنال مجمدر نے کہا کہ ’اہم قومی انتخابات سے چند ماہ قبل کسی صحافی کو انسدادِ دہشتگردی کے قانون کے تحت حراست میں لینا عبوری حکومت کے آزادیٔ صحافت سے وابستگی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے، جو جمہوریت کا بنیادی ستون ہے۔ بنگلہ دیشی حکام کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر سینئر صحافی انیس عالمگیر کو رہا کریں اور حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں کو نشانہ بنانا بند کریں۔‘
یہ بھی پڑھیے عوامی لیگ کی حمایت پر بنگلہ دیشی صحافی گرفتار، 7 روزہ ریمانڈ کی درخواست
انیس عالمگیر، جو ماضی میں جنگی نامہ نگار رہ چکے ہیں اور 2001 میں افغانستان جبکہ 2003 میں عراق کی جنگ کی رپورٹنگ کر چکے ہیں، کو 14 دسمبر کو ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کی ڈیٹیکٹو برانچ نے دارالحکومت کے ایک جم سے گرفتار کیا تھا۔
ان کی گرفتاری ایک ایسے شخص کی شکایت کے بعد عمل میں آئی جس نے خود کو ایک احتجاجی تحریک کا منتظم بتایا۔
یہ تحریک گزشتہ برس جولائی میں شروع ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے والی وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد کو مستعفی ہونا پڑا اور عوامی لیگ پر پابندی عائد کر دی گئی۔ بنگلہ دیش میں اگست 2024 سے نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت قائم ہے۔
بنگلہ دیش میں آئندہ عام انتخابات 12 فروری کو منعقد ہونے والے ہیں۔ اگر انیس عالمگیر انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت مجرم قرار پائے تو انہیں عمر قید اور بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سی پی جے کا کہنا ہے کہ وہ یہ معلوم نہیں کر سکا کہ انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کی کون سی شقیں انیس عالمگیر پر لاگو کی گئی ہیں، کیونکہ فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کی کاپی دستیاب نہیں ہو سکی۔ 15 دسمبر کو ڈھاکہ کے ایک مجسٹریٹ نے پولیس کو انیس عالمگیر سے تفتیش کے لیے 5 روزہ ریمانڈ دے دیا۔
یہ بھی پڑھیے ڈھاکہ میں صحافی اور اداکارہ پر انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت شکایت، تفتیش جاری
انیس عالمگیر کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں کئی دہائیوں کا تجربہ حاصل ہے۔ حالیہ برسوں میں وہ سوشل میڈیا اور ٹی وی پروگراموں میں بنگلہ دیش کی قومی سیاست، سیکیورٹی معاملات اور میڈیا کی آزادی پر تبصرہ کرتے رہے ہیں۔
سی پی جے کے مطابق بنگلہ دیش میں صحافیوں پر حملوں میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، جہاں صرف فروری 2025 میں کم از کم 17 صحافیوں پر تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ادارے نے سیکیورٹی قوانین کے تحت متعدد گرفتاریوں اور حراستوں کی بھی نشاندہی کی ہے۔
دوسری جانب ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس نے سی پی جے کی جانب سے بھیجی گئی تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔














