بنگلہ دیش میں معروف سینیئر صحافی انیس عالمگیر، مقبول اداکارہ مہر افروز شاون سمیت دیگر 4 افراد کے خلاف انسدادِ دہشتگردی قانون کے تحت ایک درخواست پولیس اسٹیشن میں جمع کرائی گئی ہے۔
پولیس حکام نے پیر کے روز تصدیق کی کہ تاحال اس درخواست کو باقاعدہ مقدمے کی صورت میں درج نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: شیخ حسینہ کی برطرفی نے بنگلہ دیش میں بھارت کی مداخلت ختم کردی، بنگلہ دیشی صحافی
پولیس ذرائع کے مطابق یہ درخواست اتوار کی علی الصبح تقریباً 2 بجے آرین احمد کی جانب سے جمع کرائی گئی، جو جولائی ریولوشنری الائنس کے مرکزی آرگنائزر ہیں۔ درخواست ڈھاکا کے علاقے اُترا ویسٹ تھانے میں دی گئی۔
Journalist Anis Alamgir has been taken to the Dhaka Metropolitan Detective Branch (DB) office. Speaking to Prothom Alo, Anis Alamgir said, “I was brought in from a gym in the Dhanmondi area. The DB said that their chief would speak with me.”
It is widely known that Anis Alamgir… pic.twitter.com/ejnf2xMB2T
— Mohammad Ali Arafat (@MAarafat71) December 14, 2025
درخواست میں نامزد دیگر 2 افراد میں ماریا کشپٹہ اور امتو راتش امتیاز شامل ہیں۔
اُترا ویسٹ تھانے کے آفیسر اِن چارج، قاضی محمد رفیق احمد نے میڈیا کو بتایا کہ الزامات کا تعلق مبینہ طور پر سائبر سرگرمیوں سے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئندہ کارروائی سینیئر پولیس حکام سے مشاورت کے بعد طے کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: شیخ حسینہ واجد کی حوالگی، بھارت نے بنگلہ دیش کی درخواست پر غور شروع کردیا
ادھر صحافی انیس عالمگیر اس وقت ڈھاکا میٹروپولیٹن پولیس کی ڈیٹیکٹو برانچ کے دفتر میں موجود ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق انہیں اتوار کی شام تفتیش کے لیے ڈیٹیکٹو برانچ طلب کیا گیا تھا۔
ڈیٹیکٹو برانچ کے ایک سینیئر اہلکار نے پیر کی صبح تصدیق کی کہ انیس عالمگیر تاحال وہیں موجود ہیں اور ان کی حیثیت کے بارے میں فیصلہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کے ’نئے بانی‘ اور فہمیدہ ریاض کی ایک پرانی کتاب
اس کی تصدیق ڈی ایم پی کے میڈیا اینڈ پبلک ریلیشنز ونگ کے ڈپٹی کمشنر محمد طالب الرحمان نے بھی کی ہے۔
پولیس کی جانب سے ابھی تک الزامات کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، جبکہ تاحال کسی گرفتاری کا باضابطہ اعلان بھی نہیں کیا گیا۔













