وفاقی حکومت نے کسانوں کے لیے بلا ضمانت زرعی قرضہ اسکیم کا آغاز کر دیا

جمعہ 19 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت نے رسمی مالیات سے باہر رہنے والے 93 فیصد چھوٹے کسانوں اور کاشتکاروں کے لیے زرخیز ای کے نام سے زرعی قرضے کا پروگرام شروع کر دیا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق یہ کسانوں کے لیے بلا ضمانت اور ڈیجیٹل طور پر فعال زرعی قرضہ اسکیم ہے اور یہ اسکیم ان 93 فیصد چھوٹے کاشتکاروں اور کسانوں کے لیے شروع کی گئی ہے جو طویل عرصے سے رسمی مالیاتی نظام سے باہر تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب: زرعی مشینری کے لیے کسانوں کو 3 کروڑ روپے تک بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام کوئی معمولی یا تدریجی اقدام نہیں بلکہ ایک بنیادی اور ڈھانچہ جاتی تصحیح ہے۔ اس پروگرام کے تحت ان 7 لاکھ 50 ہزار کسانوں کو مالیاتی نظام میں شامل کیا جائے گا جو پہلے اس نظام سے باہر تھے۔

پروگرام کے تحت آئندہ تین برسوں میں دیہی معیشت میں 300 ارب روپے کا بہاؤ آئے گا۔ ان کسانوں کے لیے قرضے کی فراہمی میں ضمانت کی شرط ختم کر دی گئی ہے تاکہ قرض زمین کی ملکیت کے بجائے صلاحیت کی بنیاد پر دیا جائے اور سرخ فیتے کی جگہ ڈیجیٹل ایگرونومی، سیٹلائٹ ڈیٹا اور تصدیق شدہ شناختی نظام لے سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: چھوٹے کسانوں کے لیے قرضوں کی فراہمی آسان بنائی جائے، وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایت

وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان میں زرعی قرضوں کا نظام تاریخی طور پر ایکویٹی کے بجائے پیمانے کو ترجیح دیتا رہا ہے اور 7 فیصد کسان و کاشتکار مجموعی زرعی قرضوں کا 68 فیصد حصہ لے رہے تھے۔ نئے پروگرام سے اس نظام کو منصفانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس پروگرام میں وقار کے ساتھ مالیاتی شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے اور اب کسانوں کو بلا ضمانت قرضے دیے جائیں گے۔

مزارع کسانوں کے لیے 5 لاکھ روپے تک اور زمین رکھنے والے کسانوں کے لیے 10 لاکھ روپے تک کے قرضوں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کو مساوی علاقائی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور سندھ و پنجاب کے محروم علاقوں کے کسانوں کو یکساں طور پر یہ سہولت میسر ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: کسان کارڈ فیز ٹو کے تحت 100 ارب روپے کے بلاسود قرضے دینے پر اتفاق

پروگرام کے تحت کسانوں کو استحصالی آڑھتی قرضوں سے نجات دلائی جائے گی، جس سے غربت میں کمی ہوگی۔ معیاری زرعی مداخل کی فراہمی کے ذریعے زیادہ پیداوار کے ذریعے غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔

پروگرام کے تحت زندگی اور فصل کے لیے بیمہ کی سہولت میسر ہوگی۔ وزارت خزانہ کے ترجمان نے بتایا کہ زرخیز ای محض ایک قرضہ اسکیم نہیں بلکہ یہ مڈل مین سے کسانوں کی طرف اختیارات کی منتقلی، غیر رسمی نظام سے مالی شمولیت اور بقا سے خوشحالی کی سمت میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ مضبوط اور خوشحال پاکستان کی منزل تب حاصل ہوگی جب چھوٹے کسان اور کاشتکار خوشحال ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘