امریکی شناختی دستاویزات کی جعل سازی، بنگلہ دیشی شہری امریکا میں نامزد

ہفتہ 20 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ڈھاکا سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ شخص پر امریکا میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے امریکی پاسپورٹس، سوشل سکیورٹی کارڈز اور ڈرائیور لائسنس سمیت جعلی شناختی دستاویزات فروخت کرتا تھا۔ امریکی محکمہ انصاف نے کارروائی کرتے ہوئے اس کاروبار سے منسلک تین ڈومینز ضبط کرلی ہیں۔

امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق ملزم زاہد حسن نے مبینہ طور پر 2021 سے 2025 تک بنگلادیش سے چلنے والے متعدد آن لائن کاروبار ’ ٹیک ٹریک‘ اور ’ای گفٹ کارڈ اسٹور بی ڈی‘ کے نام سے آپریٹ کیے۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کی کارروائی، جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والے مسافر گرفتار

امریکی عدالت میں پیش کیے گئے فردِ جرم کے مطابق ان پلیٹ فارمز کے ذریعے سرکاری شناختی دستاویزات کے جعلی ڈیجیٹل ٹیمپلیٹ فروخت کیے جاتے تھے، جنہیں سائبر کرائم نیٹ ورکس بینک اکاؤنٹس، سوشل میڈیا، پیمنٹ پراسیسرز اور کرپٹو سروسز پر جعلی پروفائل بنانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

پراسیکیوٹرز کے مطابق صارفین ان دستاویزات کی خریداری کرپٹو کرنسی، خصوصاً بٹ کوائن کے ذریعے کرتے تھے۔ امریکی پاسپورٹ کا ٹیمپلیٹ تقریباً 12 ڈالر، سوشل سکیورٹی کارڈ 9.37 ڈالر، اور مونٹانا ڈرائیور لائسنس 14.05 ڈالر کے مساوی فروخت ہوتا تھا۔ صرف ’ٹیک ٹریک‘ پلیٹ فارم کے ذریعے چار سال میں 1,400 سے زائد گاہکوں نے تقریباً 2.9 ملین ڈالر کی ادائیگیاں کیں۔

فرد جرم میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ 13 مئی 2025 کو حسن نے مونٹانا کے شہر بوزمین میں ایک خریدار کو بٹ کوائن کے ذریعے جعلی پاسپورٹس اور لائسنس کے ٹیمپلیٹس فراہم کرنے کی کوشش کی۔

ملزم پر مجموعی طور پر 9 وفاقی الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں 6 الزامات جعلی شناختی دستاویزات کی منتقلی، دو جھوٹے پاسپورٹ کے استعمال اور ایک سوشل سکیورٹی فراڈ کا الزام شامل ہے۔ دستاویزی جعل سازی اور پاسپورٹ سے متعلق ہر الزام پر زیادہ سے زیادہ 15 سال قید اور سوشل سکیورٹی فراڈ پر پانچ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ ہر الزام کے ساتھ 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے۔

تحقیقات کے حصے کے طور پر امریکی حکام نے تین متعلقہ ڈومینزtechtreek.com، اور egiftcardstorebd.com، idtempl.comضبط کرلی ہیں، جن پر اب سرکاری سیجر نوٹس ظاہر ہو رہے ہیں۔

کیس امریکی اٹارنی آفس ڈسٹرکٹ آف مونٹانا میں زیر سماعت ہے جبکہ تحقیقات ایف بی آئی، سالٹ لیک سٹی سائبر ٹاسک فورس، بلنگز ڈویژن اور ڈھاکا میٹروپولیٹن پولیس کی سی ٹی ٹی سی یونٹ نے مشترکہ طور پر کیں۔

امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ الزامات ابھی فرد جرم کی سطح پر ہیں اور عدالت میں جرم ثابت ہونے تک ملزم کو بے گناہ تصور کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم