28ویں ترمیم کا معاملہ التوا کا شکار ہوا یا بات منسوخی تک پہنچ گئی؟

اتوار 21 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت نے گزشتہ سال 26ویں آئینی ترمیم منظور کرائی تھی جس کے فوری بعد 27ویں آئینی ترمیم لائے جانے کی باتیں ہونے لگی تھیں لیکن فی الحال وہ بیل منڈھے چڑھتی دکھائی نہیں دے رہی۔

یہ بھی پڑھیں: سابق ڈی جی آئی ایس آئی نے حساس ڈیٹا کیوں چوری کیا؟ 28ویں آئینی ترمیم، کتنے نئے صوبے بننے جارہے ہیں؟

گزشتہ ماہ نومبر میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے قبل ہی سینٹر فیصل واؤڈا نے کہا تھا کہ 27ویں تو منظور ہو ہی جائے گی میڈیا والے 28ویں ترمیم کی تیاری کریں اور ایسا ہی ہوا تھا کہ 27 آئینی ترمیم کی منظوری کہ چند دنوں بعد ہی 28 آئینی ترمیم انے کی بھی باتیں زور پکڑ رہی تھیں۔

حکومتی رہنماؤں کی جانب سے بھی 28 ویں ترمیم لائے جانے کی تصدیق کی جا چکی تھی تاہم  اب یہ معاملہ التوا کا شکار ہے۔

 وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے وقت ایم کیو ایم کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا کہ بلدیاتی نظام کی مضبوطی کے لیے بھی آئین میں ترمیم کی جائے گی لیکن وہ اس وقت پیپلز پارٹی کے اعتراضات کے باعث نہ ہو سکی تھی۔

انہوں نے کہا کہ لہٰذا بلدیاتی نظام کی مضبوطی کے لیے آرٹیکل 140 اے، این ایف سی اور تعلیم سے متعلق اصلاحات کے لیے 28ویں ترمیم آئینی ترمیم سامنے آ جائے گی، اس ترمیم میں بجٹ سے متعلق بھی ترامیم ہوں گی اور اس کی منظوری یقینی طور پر بجٹ سے قبل ہو گی۔

مزید پڑھیں: استعفے دینے والے ججوں کے ذاتی مقاصد ہیں، 28ویں آئینی ترمیم بھی جلد پاس ہوگی، رانا ثنااللہ

انہوں نے امکان ظاہر کیا تھا کہ اپریل سے پہلے 28ویں ترمیم کی منظوری ہو جائے گی اور اس ترمیم کا براہ راست تعلق بجٹ سے بھی ہو گا۔

وی نیوز نے تجزیہ کاروں سے گفتگو کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا 28ویں آئینی ترمیم پیش کی جائے ہوگی؟

فی الوقت 28 ویں آئینی ترمیم آتی دکھائی نہیں دے رہی، انصار عباسی

سینیئر تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا کہ 27ویں ائینی ترمیم کی منظوری کے وقت تو 28 ویں ترمیم کے علاوہ اور بھی بہت سی باتیں ہو رہی تھی لیکن موجودہ صورتحال میں کچھ اور ہوتا نظر نہیں آرہا کیوں کہ اس وقت تمام حالات حکومت میں کنٹرول میں ہیں اور حکومت اور ادارے مضبوط اور محفوظ پوزیشن میں ہے۔

انصار عباسی نے کہا کہ اس کے علاوہ عدلیہ پر بھی کنٹرول ہے، ہائبرڈ نظام کا کامیابی سے سفر جاری ہے، اسٹیبلشمنٹ کا بھی مکمل کنٹرول ہے تو فی الوقت 28 ویں ترمیم کی ضرورت نہیں ہے اسی وجہ سے فی الحال کسی بھی آئینی ترمیم کے آنے کا امکان نظر نہیں آرہا۔

28 ویں آئینی ترمیم وقت کی ضرورت ہے لیکن فوری آنے کا امکان نہیں، احمد ولید

سینیئر تجزیہ کار احمد ولید نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ 28 ویں آئینی ترمیم کی ضرورت تو موجود ہے کیونکہ این ایف سی ایوارڈ صوبوں کے معاملات ختم نہیں ہوئے ہیں اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ 28 ترمیم نہیں آئے گی لیکن اس وقت وفاقی حکومت پر زیادہ پریشر نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: 28ویں آئینی ترمیم پر مشاورت شروع، بیرسٹر عقیل ملک نے تفصیلات بتادیں

احمد ولید نے کہا کہ سندھ یا کسی اور صوبے نے ابھی تک این ایف سی ایوارڈ یا دیگر نئے صوبے بنانے کے لیے وفاق پر دباؤ نہیں ڈالا تو اس لیے ابھی تک زیادہ پریشر نہیں ہے تو امکان بھی نہیں ہے کہ آئینی ترمیم فوری پیش کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں میں تعلیم کے اور صحت کے فنڈز کا معاملہ ابھی بھی زیر بحث ہے اور ان کی تشریح بھی ضروری ہے اور اس وقت بے شک یہ معاملہ زیادہ زور نہیں پکڑ رہا لیکن یہ وقت کی ضرورت ہے۔

احمد ولید نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ ان تمام معاملات پر پہلے اتفاق رائے پیدا کریں گے اور پھر آئینی ترمیم پیش کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہو سکتا ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ التوا کا شکار ہو جائے لیکن یہ این ایف سی اور دیگر معاملات کے لیے آئینی ترمیم پیش کی جائے گی۔

آئینی ترامیم کا سلسہ رکنے والا نہیں، ماجد نظامی

سینیئر تجزیہ کار ماجد نظامی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیموں کا سلسلہ ابھی رکنے والا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے حکومتوں کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے کہ ان کو عددی برتری حاصل ہو اس وقت حکومت کو آئینی ترمیم کے لیے مطلوبہ ارکان کی بآسانی حمایت حاصل ہے اور سیاسی اتحادیوں کی اتحادیوں کی مدد سے ہی آئینی ترمیم منظور ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 28ویں آئینی ترمیم کب آئےگی اور اس میں کیا تجاویز ہوں گی؟

ماجد نظامی نے کہا کہ آئینی ترمیم کے وقت میں دیر یا سویر تو ہو سکتی ہے لیکن یہ واضح ہے کہ ریاست کو جن معاملات میں مسائل درپیش ہیں ان کو حل کرنے کے لیے اور گورننس اور نظام میں بہتری لانے کے لیے جب جب ضرورت ہوگی تو آئینی ترمیم پیش کر کے منظوری لے لی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا شبِ معراج پر قوم کے نام پیغام

نیتن یاہو کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پر حملہ مؤخر کرنے کی درخواست

پاکستان اور بھارت کی دوبارہ جنگ، ایران خانہ جنگی میں کون سے طاقتیں ملوث؟ڈونلڈ ٹرمپ کو روکنے والا کون؟

شمالی علاقوں میں 16 سے 22 جنوری کے دوران شدید برفباری کا الرٹ جاری

پنجاب پولیس کے 15 افسران کو ترقی دے دی گئی، نوٹیفکیشن جاری

ویڈیو

پاکستان اور بھارت کی دوبارہ جنگ، ایران خانہ جنگی میں کون سے طاقتیں ملوث؟ڈونلڈ ٹرمپ کو روکنے والا کون؟

محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کا نوٹیفکیشن جاری

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘