ایوانِ بالا کی سینیٹ ہاؤس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینیئر سینیٹر ناصر محمود بٹ کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں پارلیمنٹ لاجز میں مرمت و بحالی کے کاموں، صفائی و لفٹ سروسز کی آؤٹ سورسنگ، گزشتہ 2 سال کے اخراجات اور سینیٹرز کے لیے 104 نئے لاجز کی تعمیراتی منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے 60 فیصد ڈاکٹرز بیرونِ ملک جا رہے ہیں، سینیٹ کمیٹی میں انکشاف
اجلاس میں پارلیمنٹ لاجز میں جنٹوریل اور لفٹ سروسز کی آؤٹ سورسنگ پر شدید اختلاف سامنے آیا۔
سینیٹر دنیش کمار نے مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ 6 سال سے آؤٹ سورسنگ ماڈل مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور نظام بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوا ہے۔
انہوں نے لفٹ آپریٹرز کی غیر حاضری، بالخصوص نائٹ شفٹ میں عملے کی عدم موجودگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہاکہ لفٹ خراب ہونے کی صورت میں سینیٹرز کے پھنس جانے کا خدشہ موجود ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ 29 لفٹ آپریٹرز 3 شفٹوں میں کام کررہے ہیں تاہم سینیٹرز نے ان کی ڈیوٹی لسٹ، حاضری ریکارڈ اور گزشتہ ایک سال کی نائٹ و ڈے شفٹس کی تفصیلات طلب کر لیں۔
کمیٹی نے سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے حاضری چیک کرنے اور غیر حاضر عملے کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت بھی جاری کی۔
سینیٹر سید وقار مہدی نے پارلیمنٹ لاجز میں جاری مرمتی کاموں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پارلیمنٹ لاجز میں فلیٹس کی صورتحال صحیح نہیں ہے ٹاپ فلور کی چھتیں انتہائی نکارہ ہو چکی ہیں، مرمت کے کاموں میں تاخیر کا حربہ استعمال کیا جاتا ہے جس کی بنیادی وجہ ٹھیکیدار اور سی ڈی اے حکام کے مابین معاملات ہیں۔
انہوں نے ٹھیکیداروں کی من مانی، بل آف کوانٹٹی کے مطابق کام نہ ہونے، انجینیئرنگ نگرانی اور ایم بی ریکارڈ پر بھی سوالات اٹھائے۔
انہوں نے حکومت اور عوامی پیسے کے غلط استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے تھرڈ پارٹی آڈٹ اور شفافیت کا مطالبہ کیا۔
کنوینیئر کمیٹی سینیٹر ناصر محمود بٹ نے بتایا کہ 104 نئے لاجز دراصل سینیٹرز کے لیے تعمیر کیے جا رہے ہیں اور سابق چیئرمین سینیٹ کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ ہدایات بھی جاری کی گئی تھیں۔
انہوں نے کہاکہ بعض رہائشی یونٹس پر 50 لاکھ روپے تک اخراجات ظاہر کیے گئے ہیں جبکہ وہاں رہائش پذیر اراکین کے مطابق اتنا کام نہیں ہوا۔ کمیٹی نے تمام گھروں کے کاموں کی تفصیلات، اخراجات، کچن، باتھ روم، فلورنگ اور دیگر کاموں کی مکمل تفصیلات طلب کر لیں۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ مالی سال 25-2024 کے دوران مرمت کے لیے 57 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 22 کے کام مکمل کیے گئے۔ سینیٹر وقار مہدی نے کہاکہ ان کے گھر کا ٹینڈر 4 دسمبر کو جاری ہوا مگر تاحال کام مکمل نہیں ہو سکا۔
اجلاس میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ لاجز میں 156 ملازمین مختلف امور انجام دے رہے ہیں۔ کنوینیئر کمیٹی نے ہدایت کی کہ ناقص کارکردگی دکھانے والے عملے کے خلاف کارروائی کی جائے اور پارلیمنٹ لاجز میں کسی قسم کی شکایت برداشت نہ کی جائے۔
کمیٹی نے وزارت داخلہ، وزارت خزانہ اور سی ڈی اے حکام کو ہدایت کی کہ وہ باہمی مشاورت اور تعاون سے فنڈز اور انتظامی مسائل جلد حل کریں۔
اس کے ساتھ ہی جن لاجز میں مرمت کا کام مکمل ہو چکا ہے وہاں رہائش پذیر سینیٹرز سے تسلی بخش سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔
مزید پڑھیں: نفع نقصان کی پروا کیے بغیر سینیٹ کمیٹیوں سے استعفے دے رہے ہیں، بیرسٹر علی ظفر
اجلاس میں سینیٹر دنیش کمار، سینیٹر ہدایت اللہ خان سمیت وزارت داخلہ، وزارت خزانہ اور سی ڈی اے کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
سینیٹر وقار مہدی نے کمیٹی کے اجلاس میں آن لائن شرکت کی کنوینیئر کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں چیئرمین سی ڈی اے اور تمام متعلقہ افسران کی شرکت یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی۔














