وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے پاکستانی شہریوں کے بیرونِ ملک سفر کو آسان بنانے کے لیے ویزا کلیئرنس سسٹم کی منظوری دے دی ہے۔ یہ نظام ویزا کے حصول کے لیے شفاف، محفوظ اور منظم طریقہ کار فراہم کرے گا۔
وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری سے متعلق کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے فیصلوں کی باضابطہ توثیق بھی کی گئی۔ وزیراعظم نے نجکاری کے عمل میں متعلقہ وزارتوں اور کابینہ اراکین کی کاوشوں کو سراہا، خصوصاً نائب وزیراعظم، وزیر دفاع اور وزیر خزانہ کے کردار کی تعریف کی۔
اہم پالیسی اور قانونی فیصلے
اجلاس میں دیگر اہم پالیسی اور قانون سازی سے متعلق فیصلے بھی کیے گئے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی سفارش پر کابینہ نے آف گرڈ پاور پلانٹس لیوی ایکٹ 2025 میں توسیع کی منظوری دی، جس کے تحت تھرڈ پارٹی کے ذریعے کیپٹو پاور پلانٹس کو گیس فروخت بھی اس قانون کے دائرہ کار میں آئے گی۔
یہ بھی پڑھیے مذاکرات کی آڑ میں امن و امان خراب نہیں کرنے دیں گے، وزیراعظم: وفاقی کابینہ اجلاس میں اہم فیصلے
سرکاری خریداری کے نظام کو جدید بنانے کے لیے کابینہ نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) آرڈیننس 2002 میں ترامیم کی اصولی منظوری دی، تاکہ ٹینڈرنگ اور پروکیورمنٹ کے عمل کو موجودہ تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
تعلیم، قانون سازی اور دیگر منظوری
کابینہ نے نیشنل یونیورسٹی فار سیکیورٹی سائنسز اسلام آباد بل 2025 کی منسوخی کی منظوری دی اور قومی اسمبلی میں پرائیویٹ ممبرز بلز اور دیگر قانون سازی پر مؤثر مشاورت کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کر دی۔
اس کے علاوہ نیشنل کینابس کنٹرول اینڈ ریگولیٹری پالیسی 2025 کی منظوری دی گئی، جس کا مقصد دواسازی اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں پودوں پر مبنی وسائل کے استعمال کو باقاعدہ فریم ورک کے تحت فروغ دینا ہے۔
دیگر فیصلوں کی توثیق
وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے 20 اکتوبر، 5 نومبر اور 21 نومبر 2025 کے اجلاسوں کے فیصلوں، جبکہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے 18 دسمبر 2025 کے فیصلوں کی بھی توثیق کر دی۔
مزید پڑھیں: وفاقی کابینہ اجلاس: قومی خزانے پر بوجھ بننے والے اداروں کو ختم کرنے کے لیے سفارشات پیش
اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قومی مفاد، معاشی اصلاحات، سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد حکومت کی تمام پالیسیوں کا بنیادی محور رہیں گے۔














