ایک نوکری، کئی زخم: آفس کلچر، 34 فیصد پاکستانی نفسیاتی مسائل کا شکار

بدھ 24 دسمبر 2025
author image

سیدہ سفینہ ملک

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دفتر میں بد انتظامی، غیر منصفانہ سلوک اور شعوری یا غیر شعوری طور پر خوف پر مبنی ماحول کے نتیجے میں پاکستان کے ملازمین نہ صرف ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں، بلکہ اس کا براہِ راست اثر ہماری معیشت پر بھی پڑ رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں تقریباً 34 فیصد افراد کسی نہ کسی قسم کے ذہنی مسائل کا شکار ہیں، جن میں ڈپریشن، انزائٹی اور دباؤ شامل ہیں۔ یہ شرح عالمی اوسط سے کہیں زیادہ ہے اور اس کا تعلق سماجی دباؤ، بے روزگاری، معاشی عدم تحفظ، اور خوف پر مبنی کام کے ماحول سے جوڑا جاتا ہے۔

آفس کے خراب رویّے اور ذہنی دباؤ

پاکستان میں تقریباً 34 سے 40 فیصد افراد زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر ذہنی دباؤ، ڈپریشن یا انزائٹی کا سامنا کرتے ہیں۔

مختلف سروسز میں ملازمین نے بتایا ہے کہ کام کا بوجھ، غیر محفوظ کام کا ماحول، اور رویّوں کی وجہ سے 75 فیصد افراد پر دباؤ ہوتا ہے، جو ان کی ذہنی صحت کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔

یہ ذہنی دباؤ محض انفرادی مسئلہ نہیں رہا؛ بلکہ اس نے کام کی جگہوں پر پیداواری صلاحیت، ملازمین کی کارکردگی، اور کمپنیوں کا ٹیلنٹ بنائے رکھنے کا چیلنج بڑھا دیا ہے۔

ملازمین کی کارکردگی اور ترکِ ملازمت

صنعتوں میں سروے کے مطابق تقریباً 25.8 فیصد کارکنان اپنی ذہنی صحت کو ’خراب‘ قرار دیتے ہیں، جس کا تعلق براہِ راست کام کے دباؤ سے ہے۔

ذہنی دباؤ رکھنے والے کارکن کم کارآمد ثابت ہوتے ہیں اور اکثر غیر موجودگی، کم پیداوار، اور حالات برداشت نہ ہونے پر نوکری چھوڑنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں۔

عالمی اعداد و شمار کے مطابق ذہنی مسائل کی وجہ سے کم از کم 15–20 فیصد پیداوار میں کمی اور 25 فیصد تک ٹرن اوور (چھوڑنا) دیکھا جاتا ہے، جس سے اداروں کو مالی نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں۔

اگرچہ پاکستان میں کام کی جگہ سے بالکل چھوڑنے کے بارے میں کوئی مخصوص قومی ڈیٹا دستیاب نہیں، لیکن عالمی اور مقامی سرویز مل کر یہ واضح تصویر بناتے ہیں کہ زیادہ تر ملازمین ذہنی دباؤ یا ٹاکسن کلچر کی وجہ سے اپنا کیریئر تبدیل کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

معیشت پر براہِ راست اثرات

ذہنی دباؤ اور کام چھوڑنے کا صرف انفرادی نقصان نہیں بلکہ معاشی اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں:

ایک تحقیقی جائزے کے مطابق ذہنی صحت کے مسائل سے پیدا ہونے والے منتقلی اخراجات، غیر موجودگی (absenteeism)، اور کم کام (presenteeism) کی وجہ سے ہر 100 ملازمین پر تقریباً PKR 5 ملین سالانہ نقصان ہوتا ہے۔

عالمی سطح پر ذہنی صحت کے مسائل کی وجہ سے USD 1 ٹریلین سے زیادہ کی پیداوار کا نقصان ہوتا ہے، جس کا اثر پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے اور بھی شدید ہو سکتا ہے۔

یہ نقصان نہ صرف کمپنیوں کیلئے خطرہ ہے بلکہ ملکی GDP، کاروباری نمو، اور برآمدات پر بھی برا اثر ڈالتا ہے کیونکہ ملازمین کا فعال، صحت مند و حوصلہ مند ہونا معیشت کی طاقت کے لیے ضروری ہے۔

اگر آفس کے رویّے، جیسے غیر منصفانہ فیصلے، خوف پر مبنی نظم و نسق، اور تعلقات میں حسد یا بے عزتی — کو تسلیم نہ کیا جائے تو:

ملازمین کی ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔

پیداواری صلاحیت میں کمی آتی ہے۔

ملازمین زیادہ نوکریاں چھوڑ دیتے ہیں۔

کمپنیوں اور بالآخر معیشت کو بھاری مالی نقصان ہوتا ہے۔

یہ وقت ہے کہ نہ صرف ملازمین بلکہ کمپنیوں اور پالیسی سازوں کو بھی احساس ہو کہ ایک صحت مند، معاون اور احترام پر مبنی آفس کلچر نہ صرف انسانی حقوق کا معاملہ ہے بلکہ مضبوط معیشت کی بنیاد بھی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

1980 فوٹو اے آئی ٹرینڈز: تصویریں بنانے کا شوق کہیں آپ کا فون اور ذاتی ڈیٹا ہیکرز کے حوالے تو نہیں کررہا؟

پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کو وفاق سے ملنے والے 22 ہزار ارب روپے عوام پر خرچ نہیں ہوئے، رکن صوبائی اسمبلی نجم مرزا

اپوزیشن کو گنجائش دی جائے تو 27 ستمبر کو لانگ مارچ جیسے حالات سے بچا جا سکتا ہے، فواد چوہدری کا حکومت کو مشورہ

پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے احتجاج، اسلام آباد میں سیکیورٹی پلان تیار، کنٹینرز پہنچنا شروع

نئے انتظامی یونٹ: پیپلز پارٹی کیوں غصے میں ہے؟

ویڈیو

پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کو وفاق سے ملنے والے 22 ہزار ارب روپے عوام پر خرچ نہیں ہوئے، رکن صوبائی اسمبلی نجم مرزا

اپوزیشن کو گنجائش دی جائے تو 27 ستمبر کو لانگ مارچ جیسے حالات سے بچا جا سکتا ہے، فواد چوہدری کا حکومت کو مشورہ

پاکستان میں ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا میلہ، دنیا بھر سے ممتاز آئی ٹی ماہرین کی شرکت

کالم / تجزیہ

جین زی ماضی کی طرف کیوں جھانک رہی ہے؟

ایک سانس کی قیمت

’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘