اسلام آباد میں پہلی جدید پیلیکین کراسنگ نصب، ’پاکستان بدل رہا ہے‘

بدھ 24 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد کی پہلی جدید پیلیکین کراسنگ اسلام آباد میں شاہراہِ دستور پر سیکریٹریٹ کے سامنے نصب کر دی گئی ہے۔ یہ جدید سہولت شہریوں کو محفوظ طریقے سے سڑک پار کرنے کی سہولت فراہم کرے گی اور ٹریفک کے بہاؤ کو بھی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

حکام کے مطابق یہ اقدام شہریوں کو محفوظ طریقے سے سڑک پار کرنے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ صارفین نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے حکومت اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیا ہے۔

طاہر مغل نے کہا کہ الحمدللّٰہ پاکستان بدل رہا ہے اور کام ہوتے نظر آ رہے ہیں کیونکہ مسلم لیگ ن کی حکومت ہے اور یہی ترقیاتی کام ان کی پہچان ہیں۔

شبانہ شوکت لکھتی ہیں کہ یہ ترقی کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے جو ڈیجیٹلائزیشن اور انفراسٹرکچر کی بہتری پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

ندیا اطہر نے لکھا کہ یہ بہت شاندار ہے لیکن سی ڈی اے بہارہ کہو کے اطراف میں پڑے کچرے کے ڈھیروں پر بھی توجہ دے۔

کئی صارفین نے کہا کہ یہ تو پاکستان لگ ہی نہیں رہا جبکہ چند صارفین نے سوال کیا کہ ہم اسلام آباد کے دیگر حصوں میں ایسی جدید پیلیکین کراسنگ نصب ہوتے کب دیکھیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غزہ، اسرائیلی فضائی حملے میں فری لانسر سمیت 3 صحافی جاں بحق

قدرتی تنوع اور ثقافتی ورثے کے ساتھ جازان شہر سعودی عرب کا اہم سیاحتی مرکز

ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں: یورپی یونین نے امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ معطل کردیا

ٹی20 ورلڈ کپ: آئی سی سی کے واضح جواب کے باوجود بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ ٹیم بھارت نہ بھیجنے کے مؤقف پر قائم

وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے حماد اظہر کو نوسر باز قرار دے دیا، مگر کیوں؟

ویڈیو

عمران خان قصہ پارینہ، سارے دروازے بند ہوگئے

5 جی اور پے پال کا انتظار ختم: وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے موبائل ٹیکسز میں کمی کی بھی خوشخبری سنادی

پشاور کی مارکیٹ جو بسنت کو رنگین بناتی ہے

کالم / تجزیہ

محمود خان اچکزئی نئے اپوزیشن لیڈر، نیا میثاق جمہوریت ہو گا؟

ہمارے شہر مر رہے ہیں

’میرے پاس کالا کوٹ نہیں تھا‘