شریف عثمان ہادی کے قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں بھارتی ریاست میگھالیہ میں بھارتی پولیس نے دو بھارتی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے، جن پر مرکزی ملزمان کو قتل کے بعد سرحد پار بھارت فرار کرانے میں مدد دینے کا الزام ہے۔ ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس (ڈی ایم پی) نے اتوار کے روز اس گرفتاری کی تصدیق کی۔
گرفتار افراد کی شناخت پرتی اور سامی کے نام سے ہوئی ہے۔
ڈی ایم پی میڈیا سینٹر میں پریس بریفنگ کے دوران ایڈیشنل کمشنر ایس این نذرالاسلام نے بتایا کہ شریف عثمان ہادی کا قتل ایک منصوبہ بند کارروائی تھا۔ ان کے مطابق قتل کے بعد مرکزی ملزم فیصل کریم مسعود اور اس کا ساتھی عالمگیر شیخ پہلے ڈھاکہ سے امین بازار، پھر کلاماپور پہنچے اور بعد ازاں میمن سنگھ سے ملحقہ سرحدی علاقے کی جانب روانہ ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے عثمان ہادی قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد، ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ
پولیس کے مطابق سرحد پر فلپ سنال اور سنجے نامی دو افراد نے ملزمان کو وصول کیا اور غیر قانونی طور پر بھارت منتقل کرنے میں مدد فراہم کی۔ فلپ سنال ملزمان کو بھارتی ریاست میگھالیہ کے علاقے تورا لے گیا، جہاں انہیں پرتی کے حوالے کیا گیا۔ بعد ازاں سامی کی جانب سے فراہم کردہ گاڑی کے ذریعے انہیں مزید آگے منتقل کرنے کی کوشش کی گئی۔
ایڈیشنل کمشنر نذرالاسلام نے مزید بتایا کہ اس کیس میں اب تک 11 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے چھ ملزمان عدالت میں اعترافی بیانات دے چکے ہیں جبکہ چار گواہان کے بیانات بھی قلمبند کیے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی دہشتگردی کا شکار بنگلہ دیشی طالب علما رہنما عثمان ہادی کون تھا؟
پولیس حکام کے مطابق تفتیش آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور آئندہ 7 سے 10 دن کے اندر چارج شیٹ جمع کرانے کی توقع ہے۔
میٹروپولیٹن ڈیٹیکٹو پولیس کے ایڈیشنل کمشنر شفیق الاسلام نے بتایا کہ قتل کی سازش میں ملوث مزید افراد کی نشاندہی کر لی گئی ہے، تاہم تفتیشی مفاد کے تحت ان کے نام ظاہر نہیں کیے جا رہے۔
تاحال کی تحقیقات کی بنیاد پر حکام کا کہنا ہے کہ شریف عثمان ہادی کا قتل سیاسی محرکات کے تحت کیا گیا۔













