بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر یونس سے پاکستانی ہائی کمشنر عمران حیدر نے ملاقات کی ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو مضبوط بنانے پر بات چیت کی گئی۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے تجارت، سرمایہ کاری اور ہوابازی کے شعبوں میں تعاون کو بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا اور ثقافتی، تعلیمی اور طبی تبادلوں کو مزید گہرا کرنے کے مواقع تلاش کرنے پر بھی بات کی۔
مزید پڑھیں: ماضی کی تلخ یادیں بھول چکے، پاکستان بنگلہ دیش کو بھائی کی طرح دیکھتا ہے، مولانا فضل الرحمان
معیشت کے بڑھتے ہوئے تعلقات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پاکستانی ہائی کمشنر نے کہاکہ دو طرفہ تجارت گزشتہ سال کے مقابلے میں قریباً 20 فیصد بڑھ گئی ہے اور دونوں جانب کے کاروباری حلقے نئے سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے میں سرگرم ہیں۔
انہوں نے تعلیمی اور ثقافتی تبادلوں میں اضافے کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہاکہ بنگلہ دیشی طلبہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
عمران حیدر نے مزید بتایا کہ پاکستان کے معروف اسپتالوں میں بڑھتی ہوئی تعداد میں بین الاقوامی مریض جگر اور گردے کے ٹرانسپلانٹ کے علاج کے لیے آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹرانسپلانٹ سے متعلقہ طبی شعبوں میں تربیت اور تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے باہمی رابطوں کی رفتار کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہاکہ سارک ممالک، بشمول پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان وزٹ اور عوامی تبادلے کو بڑھانا اہم ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہائی کمشنر کے دور میں تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں، جس میں ممکنہ جوائنٹ وینچر منصوبے بھی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان بنگلہ دیش تعلقات میں بہتری کا عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی، دفتر خارجہ
ہائی کمشنر نے یہ بھی بتایا کہ ڈھاکہ اور کراچی کے درمیان براہِ راست پروازیں جنوری میں بحال ہونے کی توقع ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کاروبار اور سفر میں سہولت پیدا ہوگی۔














