معروف مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان جیل میں عام قیدیوں کی طرح نہیں بلکہ غیر معمولی سہولیات کے ساتھ قید تھے۔ ان کے مطابق عمران خان کی چکی (بیرک) ان کی اپنی بیرک کے ساتھ واقع تھی اور عمران خان کو مجموعی طور پر 6 بیرکیں الاٹ کی گئی تھیں۔
ارشاد بھٹی کو دیے گئے حالیہ پوڈ کاسٹ میں انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو واک کے لیے علیحدہ صحن میسر تھا جہاں وہ سردیوں میں دھوپ میں بیٹھ سکتے تھے۔ دعوے کے مطابق انہیں ٹی وی کی سہولت بھی حاصل تھی جبکہ روزانہ 2 اخبارات فراہم کیے جاتے تھے۔
عمران نیازی جیل میں نہیں سسرال میں رہ رہا
میری چکی (بیرک ) کی دیوار عمران نیازی کے بیرک کے ساتھ تھی عمران نیازی کو 6 بیرک ملی ھوئی ہیں واک کے لیے صحن ھے سردی میں دھوپ میں بیٹھنے کی سہولت ،ٹی وی ملا ھوا 2 اخبارات ملتے مشقتی من پسند کھانا بنا کر دیتا .انجنئیر محمد علی مرزا pic.twitter.com/oZFUNcWjj2— Muzamil (@muzamil_45) December 28, 2025
انجینئر محمد علی مرزا کا کہنا ہے کہ عمران خان کے لیے ایک مشقتی مقرر تھا جو ان کی پسند کے مطابق کھانا تیار کرتا تھا وہ صبح 9 بجے ناشتہ اور 3 بجے دوپہر کا کھانا کھاتے تھے اس وقت دیسی گھی کے تڑکوں کی خوشبو آتی تھی اور وہ کرکٹ کے بارے میں بات کر رہے ہوتے تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 4 نومبر کے بعد ہم نے عمران خان کی آواز نہیں سنی لیکن پھر ڈیوٹی پر موجود ایک شخص نے کہا کہ دھوپ دوسری سائیڈ پر ہوتی ہے اس لیے وہ دوسری سائیڈ پر جا کر بیٹھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سردی پھر رمضان، پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے نئے سال میں کب سے احتجاج کا پلان بنا رہی ہے؟
چند صارفین نے اس ویڈیو پر تبصرے کرتے ہوئے کہا کہ ان سہولیات کودیکھ کر لگتا ہے کہ عمران نیازی جیل میں نہیں بلکہ گویا سسرال میں رہ رہے ہیں۔ جبکہ کئی صارفین ایسے تھے جو انجینئر محمد علی مرزا کی بات سے متفق نظر نہیں آئے۔
اس سے قبل سینیٹر آغا شاہزیب درانی نے دعویٰ کیا تھا کہ ’عمران خان کو جیل میں 8 کمرے اور 8 مشقتی دیے گئے ہیں جبکہ کسی دوسرے سیاسی اسیر کو ایسی سہولیات کبھی نہیں ملتیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’عمران خان کو ناشتہ میں دیسی مرغی اور شہد فراہم کیا جاتا ہے جب کہ انہیں جم اور لائبریری کی سہولت بھی میسر ہے‘۔













