راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال کے ڈاکٹروں کی غفلت یا ممکنہ غلطی کے باعث نومولود بچے کو زندہ ہونے کے باوجود ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا۔ والدین جب بچے کو وصول کرنے آئے تو معلوم ہوا کہ اس کی سانسیں بحال ہیں، اور بچہ زندہ ہے۔
روبینہ نامی خاتون کے ہاں گزشتہ روز بچے کی پیدائش ہوئی تھی۔ بچے کی حالت ابتدا میں نازک تھی جس کی وجہ سے ڈاکٹروں نے عجلت میں ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا۔ ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر ڈاکٹر کی مہر اور دستخط بھی موجود تھے، اور والدین کو بچے کی میت حوالے کرنے کی تصدیق بھی کی گئی تھی۔
راولپنڈی/ ہولی فیملی ہسپتال کے ڈاکٹرز نے نومولود زندہ بچے کا ڈیتھ سرٹفکیٹ جاری کردیا۔
والدین نے بچہ وصول کیا تو اسکی سانسیں بحال تھیں۔
والدین نے بچے کے زندہ ہونے کی تصدیق کردی تو بچے کو فوری وینٹی لیٹر پر شفٹ کردیا گیا۔
گزشتہ روز بچے کی پیدائش ہوئی تھی۔ pic.twitter.com/JAyKCWfbiU— Media Talk (@mediatalk922) January 1, 2026
جب والدین نے بچہ وصول کیا تو دیکھا کہ اس کی سانسیں چل رہی ہیں اور آکسیجن ماسک کے ذریعے بچہ سانس لیتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا تھا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق، بچہ Lazarus Syndrome کا شکار تھا، جس میں سانس مدھم ہو جاتی ہے لیکن بچے کی زندگی خطرے میں نہیں ہوتی۔

اسپتال انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی ہے اور کہا ہے کہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں ملوث افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔
شہریوں کے مطابق یہ واقعہ اسپتال کے نظام اور پیدائش کے بعد نگہداشت کے عمل پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے اور والدین سمیت شہر میں تشویش پیدا کر رہا ہے۔













