راولپنڈی: ہولی فیملی اسپتال میں زندہ نومولود کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کردیا گیا

جمعرات 1 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال کے ڈاکٹروں کی غفلت یا ممکنہ غلطی کے باعث نومولود بچے کو زندہ ہونے کے باوجود ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا۔ والدین جب بچے کو وصول کرنے آئے تو معلوم ہوا کہ اس کی سانسیں بحال ہیں، اور بچہ زندہ ہے۔

روبینہ نامی خاتون کے ہاں گزشتہ روز بچے کی پیدائش ہوئی تھی۔ بچے کی حالت ابتدا میں نازک تھی جس کی وجہ سے ڈاکٹروں نے عجلت میں ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا۔ ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر ڈاکٹر کی مہر اور دستخط بھی موجود تھے، اور والدین کو بچے کی میت حوالے کرنے کی تصدیق بھی کی گئی تھی۔

جب والدین نے بچہ وصول کیا تو دیکھا کہ اس کی سانسیں چل رہی ہیں اور آکسیجن ماسک کے ذریعے بچہ سانس لیتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا تھا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق، بچہ Lazarus Syndrome کا شکار تھا، جس میں سانس مدھم ہو جاتی ہے لیکن بچے کی زندگی خطرے میں نہیں ہوتی۔

اسپتال انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی ہے اور کہا ہے کہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں ملوث افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔

شہریوں کے مطابق یہ واقعہ اسپتال کے نظام اور پیدائش کے بعد نگہداشت کے عمل پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے اور والدین سمیت شہر میں تشویش پیدا کر رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور بھارت کی دوبارہ جنگ، ایران خانہ جنگی میں کون سے طاقتیں ملوث؟ڈونلڈ ٹرمپ کو روکنے والا کون؟

شمالی علاقوں میں 16 سے 22 جنوری کے دوران شدید برفباری کا الرٹ جاری

پنجاب پولیس کے 15 افسران کو ترقی دے دی گئی، نوٹیفکیشن جاری

وزیراعظم شہباز شریف نے صحت کارڈ پروگرام کا باضابطہ افتتاح کردیا

شعبان کا چاند کب دکھائی دے گا؟ سپارکو نے تاریخ کا اعلان کر دیا

ویڈیو

پاکستان اور بھارت کی دوبارہ جنگ، ایران خانہ جنگی میں کون سے طاقتیں ملوث؟ڈونلڈ ٹرمپ کو روکنے والا کون؟

محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کا نوٹیفکیشن جاری

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘