چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدلیہ سال 2026 میں عوام کو بہتر اور مؤثر انصاف کی فراہمی کے لیے بامقصد اصلاحات پر عمل کرے گی جن کا مقصد عدالتی نظام تک رسائی کو آسان بنانا، مقدمات میں تاخیر کم کرنا اور شفافیت کو مزید مضبوط کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس پاکستان کا تھرپارکر کا دورہ، انصاف کی فراہمی اور عدالتی نظام کے امور کا جائزہ
نئے سال کے موقعے پر سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے اپنے پیغام میں چیف جسٹس نے عوام، عدلیہ کے اراکین اور قانونی برادری کو نئے سال کی مبارکباد دی۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ سال عدلیہ ایسی اصلاحات پر کام کرے گی جن کے ذریعے ٹیکنالوجی کو ذمہ داری کے ساتھ انصاف کی خدمت میں استعمال کیا جائے گا۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ ان کوششوں کی بنیاد ایسے نتائج پر ہوگی جو عوام کے لیے سب سے زیادہ اہم ہیں، جن میں بروقت فیصلے، قابلِ فہم عدالتی طریقۂ کار اور ایک ایسا عدالتی نظام شامل ہے جو عوام دوست اور انسانی اقدار سے ہم آہنگ ہو۔
انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ انصاف نہ صرف ہو بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے، اور یہ انصاف بلا تاخیر، غیرجانبدارانہ اور منصفانہ ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ ذمہ داری اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب عام شہری امید، اعتماد اور کمزوری کے احساس کے ساتھ عدالتوں کا رخ کرتے ہیں۔
چیف جسٹس نے زور دیا کہ نیا سال عدلیہ کے لیے غور و فکر، اصلاح اور انصاف کے ایسے نظام سے وابستگی کی تجدید کا تقاضا کرتا ہے جس کے مرکز میں شہری ہو۔
مزید پڑھیے: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیٰی آفریدی نے حکومت پنجاب کی تعریف کیوں کی؟
انہوں نے کہا کہ انصاف صرف اصولی طور پر نہیں بلکہ عملی طور پر قابلِ رسائی ہونا چاہیے، طریقۂ کار میں باوقار اور نتائج کے ساتھ ساتھ عمل میں بھی منصفانہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتی نظام خواتین، بچوں، محروم طبقات اور دور دراز و پسماندہ علاقوں میں رہنے والے افراد کی ضروریات کے لیے حساس اور جواب دہ ہونا چاہیے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اجتماعی عزم، پیشہ ورانہ صلاحیت اور دیانت داری کے ذریعے عدلیہ عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنائے گی اور آئین میں درج اقدار کی پاسداری جاری رکھے گی۔
مزید پڑھیں: چیف جسٹس یحیٰی آفریدی نے جیل اصلاحات کا دائرہ کار خیبر پختونخوا تک بڑھا دیا
انہوں نے ہر شہری کی منصفانہ، آزاد اور ہمدردانہ خدمت کے لیے عدلیہ کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نیا سال قانون کی حکمرانی پر اعتماد اور ایسا عدالتی نظام لے کر آئے گا جو حقیقی معنوں میں ہر فرد تک پہنچ سکے۔














