بنگلہ دیش کے ضلع پابنا سے تعلق رکھنے والے اور عوامی لیگ سے وابستگی کے لیے مشہور وکیل نعیم کبریا ڈھاکہ کے بشوندهارا رہائشی علاقے میں مبینہ طور پر ہجوم نما گروہ کے تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے۔
نعیم کبریا پابنا ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کورٹ میں پریکٹس کرنے والے وکیل تھے اور جولائی 2024 کی بغاوت کے بعد درج کیے گئے ایک قتل کے مقدمے میں نامزد تھے۔
واقعے کے بعد ان کے والد نے جمعرات کی شب بھٹارا پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرایا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی قومی ائیرلائن کو براہ راست کراچی پروازوں کی اجازت
اہلِ خانہ کے مطابق نعیم کو ان کے آبائی علاقے کے ایک شخص نے پہچان لیا، جس کے بعد اس نے مبینہ طور پر دیگر افراد کو ان پر حملے کے لیے اکسایا۔
Naeem Qibria, a young lawyer was beaten to death in the heart of Dhaka tonight. Police didn't help. This cycle of violence in Bangladesh must stop. https://t.co/gdsYez5tI1
— Kallol Bhattacherjee (@janusmyth) January 1, 2026
بعد ازاں ان کی گاڑی بشوندهارا کے روڈ نمبر 7 پر ملی، جبکہ ان کی لاش قریب ہی سے برآمد ہوئی اور انہیں کرمیتولا جنرل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا اور تفتیش شروع کر دی ہے۔
مزید پڑھیں: خالدہ ضیا کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، بنگلہ دیش کی سیاست کا ایک دور ختم
نعیم کبریا کے رشتہ داروں کے مطابق وہ پابنا میں جولائی کی بدامنی سے متعلق قتل کے ایک مقدمے میں ضمانت کے لیے ڈھاکہ آئے تھے، جس میں انہیں ملزم نامزد کیا گیا تھا۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ اس سے قبل عوامی لیگ سے وابستہ سینیئر وکیل ایڈووکیٹ احد بابو کے جونیئر کے طور پر کام کر چکے تھے۔
مقامی پارٹی رہنماؤں سے روابط کے باعث ان کے خلاف دشمنی پیدا ہوئی۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں انتخابات سے قبل جماعت اسلامی اور این سی پی کے درمیان مفاہمت
پولیس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب نعیم کی گاڑی ایک موٹر سائیکل سے ٹکرا گئی، جس کے بعد چند نوجوانوں نے انہیں گاڑی سے باہر نکال کر تشدد کا نشانہ بنایا۔
پولیس عینی شاہدین کے بیانات اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ ملوث افراد کی شناخت کی جا سکے۔
نعیم کے پسماندگان میں اہلیہ اور ایک کمسن بیٹی شامل ہیں۔ اہلِ خانہ کا دعویٰ ہے کہ انہیں گزشتہ کئی ماہ سے دھمکیوں کا سامنا تھا اور وہ خوف کی فضا میں زندگی گزار رہے تھے۔













