حکومت کے تازہ سروے کے مطابق پاکستانی خاندان اپنی آمدن کا تقریباً دو تہائی حصہ خوراک اور رہائش سے متعلق اخراجات پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے بیرونِ ملک ترسیلاتِ زر اور مالی امداد پر انحصار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے جمعرات کو ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024-25 جاری کیا، جس میں بتایا گیا کہ مہنگائی میں اضافے کے باعث گھریلو اخراجات آمدن کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بڑھتی ہوئی قیمتوں نے قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں تعلیم پر خرچ ہونے والی رقم کم ہو کر صرف 2.5 فیصد رہ گئی، جو ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس پر اخراجات سے بھی کم ہے۔
یہ بھی پڑھیے: مہنگائی تاریخ کی کم ترین سطح پر، معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں، وزیر خزانہ
سروے کے مطابق گھریلو آمدن میں بیرونِ ملک ترسیلاتِ زر کا حصہ 5 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 8 فیصد ہو گیا ہے، جبکہ تحائف اور مالی امداد کا تناسب دگنا ہو کر 4.6 فیصد تک پہنچ گیا، جسے غیر رسمی مالی سہارا قرار دیا گیا ہے۔
ماہرینِ معاشیات کے مطابق روزگار کے محدود مواقع کے باعث نوجوانوں کی بیرونِ ملک ہجرت میں اضافہ ہوا ہے، خصوصاً دیہی علاقوں میں ترسیلاتِ زر پر انحصار گزشتہ چھ برسوں میں دگنا ہو چکا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ 6 برسوں میں اوسط ماہانہ آمدن میں اضافہ ضرور ہوا ہے، تاہم اخراجات اس سے زیادہ تیزی سے بڑھے۔ شہری علاقوں میں اوسط آمدن 53 ہزار روپے سے بڑھ کر 96 ہزار 767 روپے ہو گئی، جبکہ مجموعی اوسط آمدن 82 ہزار 179 روپے رہی۔ اس کے مقابلے میں اوسط اخراجات 37 ہزار سے بڑھ کر 79 ہزار روپے ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیے: سال 2025 کے دوران ملک بھر میں مہنگائی بڑھی یا کم ہوئی؟
سروے کے مطابق خوراک پر 37 فیصد اور رہائش، بجلی و گیس پر 26 فیصد اخراجات کیے گئے۔ دودھ، گندم اور چینی خوراکی اخراجات میں نمایاں رہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ دوہرے ہندسوں کی مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پالیسی اقدامات نے خاص طور پر متوسط طبقے کو متاثر کیا ہے۔














