امریکا نے مزید 20 ممالک اور علاقوں کے شہریوں پر سفری پابندیاں نافذ کر دی ہیں، جو جمعرات سے باضابطہ طور پر لاگو ہو گئیں۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 16 دسمبر کو جاری کردہ صدارتی حکم کے تحت کیا گیا، جس کے بعد سفری پابندیوں کی زد میں آنے والے ممالک اور اداروں کی مجموعی تعداد 39 ہو گئی ہے۔
قومی سلامتی اور عوامی تحفظ بنیادی وجہ
وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ پابندیاں ان ممالک پر عائد کی گئی ہیں جن کے اسکریننگ اور ویٹنگ (جانچ پڑتال) کے نظام کو ناکافی قرار دیا گیا ہے، جس کے باعث امریکا کو قومی سلامتی اور عوامی تحفظ سے متعلق خدشات لاحق ہیں۔
امریکی صدر کا مؤقف ہے کہ ایسے کمزور نظام امریکا کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
امیگریشن حکام کا سخت مؤقف
امریکی کسٹمز اور امیگریشن سروسز (USCIS) نے کہا ہے کہ امریکا نے ایسے مزید ممالک کی نشاندہی کی ہے جو اپنے شہریوں یا رہائشیوں کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کرنے یا امریکا کے ساتھ ضروری معلومات کے تبادلے میں ناکام رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے امریکا کا سفری پابندیوں کی فہرست مزید 30 سے زائد ممالک تک بڑھانے کا منصوبہ
بیان میں کہا گیا کہ امریکی حکومت کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ ملک میں داخل ہونے والے غیر ملکی افراد امریکا کے شہریوں، اداروں، حکومت، ثقافت یا آئینی اصولوں کے لیے خطرہ نہ ہوں۔
دہشتگردی یا انتہا پسندی کی حمایت پر مکمل پابندی
USCIS کے مطابق ایسے غیر ملکیوں کو امریکا میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو نامزد غیر ملکی دہشتگرد تنظیموں کی حمایت، مدد یا سہولت کاری میں ملوث ہوں، یا جو کسی بھی صورت قومی سلامتی یا عوامی تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتے ہوں۔

مکمل پابندی والے ہائی رسک ممالک
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جن 12 ممالک کو سب سے زیادہ خطرناک قرار دیا گیا ہے، ان میں افغانستان، میانمار (برما)، چاڈ، جمہوریہ کانگو، استوائی گنی، اریٹریا، ہیٹی، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں۔
ان ممالک کے شہریوں پر امریکا کے سفر پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
مزید ممالک اور فلسطینی اتھارٹی بھی فہرست میں شامل
مزید 5 ممالک، برکینا فاسو، مالی، نائجر، جنوبی سوڈان اور شام کے شہریوں پر بھی مکمل سفری پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ نے مزید 7 ممالک پر مکمل سفری پابندی عائد کر دی، شام بھی شامل
اس کے علاوہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ سفری دستاویزات رکھنے والے افراد بھی ان پابندیوں کی زد میں آئیں گے۔
جزوی سے مکمل پابندی میں شامل ہونے والے ممالک
لاؤس اور سیرا لیون، جو اس سے قبل جزوی سفری پابندیوں کا شکار تھے، اب مکمل پابندی والے ممالک کی فہرست میں شامل کر لیے گئے ہیں۔
تشدد اور فراڈ کے انکشافات پس منظر میں
16 دسمبر کے حکم سے قبل 19 ممالک پر سفری پابندیاں عائد تھیں، تاہم صدر ٹرمپ نے جاری تشدد، بدامنی اور حالیہ فراڈ کے انکشافات کے تناظر میں مزید 19 ممالک اور فلسطینی اتھارٹی کو اس فہرست میں شامل کیا۔
سفری پابندیوں میں محدود استثنیٰ
حکومتی وضاحت کے مطابق بعض مخصوص افراد کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا، جن میں سفارتی عملہ اور وہ کھلاڑی شامل ہیں جو اولمپکس، فیفا ورلڈ کپ یا دیگر بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے امریکا کا سفر کریں گے۔













