میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) جو پاکستان میں بی وائی ڈی کی آفیشل پارٹنر ہے، نے پاکستان کے بہترین ایتھلیٹس کی سرپرستی کا اعلان کیا ہے تاکہ وہ لندن میراتھن 2026 میں پاکستان کی نمائندگی کر سکیں۔
اس حوالے سے اعلان بی وائی ڈی کراچی میراتھن کی اختتامی تقریب میں کیا گیا، جس میں ملک بھر سے 7 ہزار سے زائد ایتھلیٹس نے شرکت کی، جبکہ 25 سے زائد ممالک کے 120 سے زیادہ بین الاقوامی کھلاڑی بھی اس عالمی معیار کے ایونٹ کا حصہ بنے۔
یہ بھی پڑھیے: وسیم اکرم پی ایس ایل کے برانڈ ایمبیسڈر مقرر، ملتان سلطانز سے متعلق بھی اہم اعلان
مردوں کے مقابلے میں اسرار خٹک نے 2 گھنٹے 39 منٹ میں دوڑ مکمل کر کے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ خواتین کے مقابلے میں سارہ لودھی نے 3 گھنٹے 33 منٹ میں فنش لائن عبور کر کے کامیابی اپنے نام کی۔ یہ ایونٹ پاکستان کا پہلا ورلڈ ایتھلیٹکس سے تصدیق شدہ طویل فاصلے کی دوڑ کا مقابلہ تھا۔

نمایاں کارکردگی دکھانے والے ایتھلیٹس کو نقد انعامات بھی دیے گئے، جن میں پہلی پوزیشن کے لیے 5 لاکھ روپے، دوسری کے لیے 2 لاکھ 50 ہزار روپے اور تیسری پوزیشن کے لیے 1 لاکھ 25 ہزار روپے شامل تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دانش خالق، وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹیجی، بی وائی ڈی پاکستان نے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے فخر کا لمحہ ہے کہ کراچی عالمی معیار کے رننگ ایونٹس کی صف میں شامل ہو گیا ہے۔ ہمیں ان ایتھلیٹس پر بھی فخر ہے جنہوں نے اس کھیل میں اعلیٰ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد راولپنڈی میٹرو روٹ پر میراتھن کا انعقاد، سینکڑوں مقامی اور غیرملکی رنرز کی شرکت
ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی نمبر ون نیو انرجی وہیکلز برانڈ کے طور پر بی وائی ڈی کا ایک پائیدار اور آگے بڑھتے پاکستان کا وژن میراتھن رننگ کی روح سے ہم آہنگ ہے۔ اسی وژن کے تحت ایم ایم سی پاکستان کی امنگوں اور حوصلے کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے ایتھلیٹس کی مکمل معاونت جاری رکھے گی۔
اس شراکت داری پر تبصرہ کرتے ہوئے شوائب نظامی، سی ای او اسپورٹس ان پاکستان اور ریس ڈائریکٹر کراچی میراتھن نے کہا کہ یہ اس نوعیت کا ہمارا تیسرا سال ہے اور بی وائی ڈی کی معاونت سے ہم ایونٹ کو ایک نئی سطح تک لے جانے میں کامیاب ہوئے۔ سوشل رنز، ڈیجیٹل مہمات اور ڈیلرشپ ایکٹیویشنز کے ذریعے بی وائی ڈی نے ملک بھر میں رننگ کمیونٹی کو متحد کیا، جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ یہ طویل المدتی شراکت داری میراتھن رننگ کو پاکستان میں ایک مرکزی کھیل بنانے میں مدد دے گی۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی میں عالمی معیار کی میراتھن، اسرار خٹک نے فل میراتھن جیت لی
مقامی ٹیلنٹ کی سرپرستی کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے—جس کی مثال این بی ایل پی ایس ایل شراکت داری میں بھی دیکھی جا چکی ہے، ایم ایم سی کی کراچی میراتھن کے ساتھ شراکت داری محض اسپانسرشپ تک محدود نہیں۔ یہ پلیٹ فارم عزم، جسمانی و ذہنی صحت کے فروغ اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، تاکہ ابھرتے ہوئے ایتھلیٹس کو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
ویژن 2032 کے تحت، جس کا مقصد پاکستانی رنرز کو اولمپکس کے لیے تیار کرنا ہے بی وائی ڈی ایم ایم سی مقامی ایتھلیٹس کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے پُرعزم ہے، تاکہ نئی نسل کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ ہر قدم پاکستان کو بلندیوں کی جانب لے جا سکتا ہے۔














