آسمان پر سورج اور چاند کا ایک دوسرے کے سامنے آ جانا محض ایک فلکیاتی منظر نہیں بلکہ انسان کے جذبات اور رویوں پر بھی گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 27 سال بعد یورپ میں مکمل سورج گرہن، آج اسپین اور آئس لینڈ میں شاندار نظارہ ہوگا
ماہرین نفسیات کے مطابق سورج گرہن جیسے غیر معمولی واقعات انسان میں حیرت، انکسار اور دوسروں سے قربت کا احساس پیدا کر سکتے ہیں۔
12 اگست 2026 کو ہونے والا مکمل سورج گرہن گرین لینڈ، آئس لینڈ، شمالی روس، اسپین اور پرتگال کے ایک محدود حصے میں مکمل طور پر دیکھا جا رہا ہے جبکہ یورپ کے بڑے حصے سمیت کئی دیگر علاقوں میں یہ جزوی طور پر نظر آ رہا ہے۔
سائنس دانوں کی ایک دلچسپ تحقیق کے مطابق ایسے شاندار فلکیاتی واقعات انسان کو اپنی ذات سے ہٹ کر وسیع تر دنیا اور دوسرے لوگوں سے تعلق کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔
قدیم جنگ جو سورج گرہن نے رکوا دی
اس بات کی ایک حیران کن تاریخی مثال تقریباً ڈھائی ہزار سال پرانی ہے۔
مزید پڑھیں: سورج کی اب تک کی سب سے واضح تصاویر، خطرناک شمسی طوفانوں کے راز سے پردہ اٹھنے لگا
28 مئی 585 قبل مسیح میں موجودہ ترکی کے علاقے اناطولیہ میں میدیوں اور لیدیائیوں کے درمیان 6 سال سے جنگ جاری تھی۔ یونانی مؤرخ ہیروڈوٹس کے مطابق دونوں فریقوں میں سے کوئی بھی فیصلہ کن برتری حاصل نہیں کر پا رہا تھا۔
جنگ کے دوران اچانک دن کی روشنی رات کے اندھیرے میں بدل گئی۔ یہ دراصل سورج گرہن تھا۔ اچانک رونما ہونے والے اس غیر معمولی واقعے سے خوف زدہ ہو کر دونوں فریقوں نے لڑائی روک دی اور امن کے لیے بات چیت شروع کر دی۔
آج کے دور میں شاید کسی سورج گرہن سے جنگ رکنے جیسا ڈرامائی ردعمل دیکھنے کو نہ ملے تاہم حالیہ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے واقعات انسانی نفسیات پر واقعی اثر ڈال سکتے ہیں۔
حیرت کا احساس انسان کو بدل سکتا ہے
ماہرین نفسیات گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران حیرت اور ہیبت کے انسانی رویوں پر اثرات کا باقاعدہ مطالعہ کر رہے ہیں۔
اس کیفیت سے مراد ایسا احساس ہے جو کسی انتہائی وسیع، غیر معمولی یا ناقابلِ فہم منظر کو دیکھ کر پیدا ہوتا ہے اور انسان کو اپنی ذات کے مقابلے میں کائنات کی وسعت کا احساس دلاتا ہے۔
یونیورسٹی آف ٹورنٹو کی ماہر نفسیات جینیفر اسٹیلر کے مطابق انسان کو اس وقت حیرت کا احساس ہوتا ہے جب وہ کسی ایسی وسیع یا غیر معمولی چیز کا مشاہدہ کرے جو اس کے دنیا کو سمجھنے کے موجودہ تصور کو چیلنج کرے۔
ایسا احساس انسان کو یہ یاد دلا سکتا ہے کہ وہ کائنات کا کتنا معمولی حصہ ہے۔
ماہر نفسیات ڈیکر کیلٹنر کے مطابق حیرت کا احساس انسان کے اندر موجود خود پسندی اور اپنی ذات پر ضرورت سے زیادہ توجہ کو کم کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں وہ دوسروں کے ساتھ تعاون، کشادہ ذہنی اور زندگی کے وسیع تر پہلوؤں کو سمجھنے کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے۔
حیرت انسان کو زیادہ منکسر المزاج بنا سکتی ہے
سنہ2018 میں ہونے والی ایک تحقیق میں شرکا کے ایک گروپ کو ایسی ویڈیو دکھائی گئی جس میں زمین سے کیمرہ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتا ہوا وسیع کائنات کا منظر دکھاتا ہے جبکہ دوسرے گروپ کو ایک عام اور پرسکون ویڈیو دکھائی گئی۔
مزید پڑھیں: اسپین کا وہ ننھا گاؤں جہاں ایک ہی رات میں 2 بار غروب آفتاب دکھائی دے گا
بعد میں دونوں گروپس سے اپنی خوبیوں اور خامیوں کے بارے میں لکھنے کو کہا گیا۔
تحقیق میں پایا گیا کہ خلا اور کائنات کی وسعت دیکھنے والے افراد میں حیرت کا احساس زیادہ نمایاں تھا اور انہوں نے اپنی خوبیوں کے مقابلے میں اپنی کمزوریوں کا زیادہ ذکر کیا۔ محققین نے اسے انکسار میں اضافے کی علامت قرار دیا۔
ایک اور تجربے میں شرکا سے ان کی زندگی میں پیش آنے والے کسی ایسے لمحے کو یاد کرنے کے لیے کہا گیا جس میں انہیں شدید حیرت یا ہیبت کا احساس ہوا ہو۔
ایسے افراد نے اپنی کامیابیوں کا سہرا صرف اپنی صلاحیتوں کو دینے کے بجائے قسمت، بیرونی حالات یا خدا جیسے عوامل کو بھی زیادہ اہمیت دی۔
جینیفر اسٹیلر کے مطابق انسان کی انا اس کے فیصلوں اور دنیا کو دیکھنے کے انداز پر اثر انداز ہوتی ہے لیکن حیرت جیسا جذبہ انسان کی اپنی ذات پر مرکوز توجہ کو کم کر دیتا ہے۔
’میں‘ سے ’ہم‘ تک کا سفر
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب انسان اپنی ذات کو کم اہم سمجھنے لگتا ہے تو اس کے دوسرے لوگوں کے ساتھ تعلقات کا احساس بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔
اسٹیلر کے مطابق جب انسان اپنی ذات پر کم توجہ دیتا ہے تو ’میں‘ اور ’آپ‘ کے درمیان حد بھی دھندلی محسوس ہوسکتی ہے اور وہ خود کو پوری انسانیت کا حصہ سمجھنے لگتا ہے۔
ایک تحقیق میں شرکا کو 2 دائروں کے ذریعے یہ بتانے کو کہا گیا کہ وہ خود کو اپنی کمیونٹی کے لوگوں کے کتنا قریب سمجھتے ہیں۔ ایک دائرہ خود فرد کی نمائندگی کرتا تھا جبکہ دوسرا اس کے اردگرد موجود لوگوں کی۔
حیرت انگیز مناظر دیکھنے کے بعد شرکا نے ایسے دائروں کا انتخاب کیا جن میں دونوں کے درمیان زیادہ مماثلت اور قربت ظاہر ہوتی تھی۔
ایک اور تحقیق میں 47 افراد نے ورچوئل ریئلٹی کے ذریعے خلا میں جانے کا تجربہ کیا۔ اس دوران انہیں ماہر فلکیات کارل سیگن کی مشہور تحریر ’پیل بلیو ڈاٹ‘ سے ماخوذ متن بھی سنایا گیا۔
اس گروپ کے افراد دوسرے شرکا کے مقابلے میں اس بات سے زیادہ متفق تھے کہ انہیں دوسرے انسانوں اور پوری انسانیت کے ساتھ قربت محسوس ہوئی۔
حیرت انسان کو زیادہ مددگار بھی بنا سکتی ہے
تحقیق سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ حیرت اور ہیبت کا احساس انسان کو دوسروں کے لیے زیادہ مثبت رویہ اختیار کرنے پر آمادہ کرسکتا ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ماہر نفسیات پال پِف اور ان کے ساتھیوں نے شرکا کو قدرتی مناظر پر مبنی ویڈیو دکھائی۔ اس کے بعد ان افراد میں 100 ڈالر کے انعام کی قرعہ اندازی کے ٹکٹ دوسروں کے ساتھ بانٹنے کا رجحان ان افراد کے مقابلے میں زیادہ تھا جنہوں نے مزاحیہ مناظر دیکھے تھے۔
اس سے محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ حیرت کا احساس انسان کو اپنی ذات سے آگے دیکھنے اور دوسروں کے لیے زیادہ فراخ دل ہونے کی طرف مائل کرسکتا ہے۔
سنہ2017 کا سورج گرہن اہم تجربہ ثابت ہوا
تاہم ماہرین کے سامنے ایک سوال یہ تھا کہ کیا یہ اثرات صرف لیبارٹری میں دکھائی جانے والی ویڈیوز سے پیدا ہوتے ہیں یا حقیقی زندگی میں کسی بڑے قدرتی واقعے کے دوران بھی انسان اسی طرح ردعمل ظاہر کرتا ہے؟
سنہ2017 کا سورج گرہن اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ایک منفرد موقع ثابت ہوا۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے ماہر نفسیات شان گولڈی نے اس موقع پر سوشل میڈیا پوسٹس کا جائزہ لیا۔ انہوں نے صارفین کے مقامات کی مدد سے اندازہ لگایا کہ کون لوگ مکمل سورج گرہن کے راستے میں موجود تھے اور کون اس منظر سے محروم رہے۔
بعد میں ان کی پوسٹس میں استعمال ہونے والی زبان کا تجزیہ کیا گیا۔
جن افراد نے مکمل سورج گرہن دیکھا تھا ان کی پوسٹس میں ’حیرت انگیز‘ اور ’ناقابلِ یقین‘ جیسے الفاظ تقریباً 2 گنا زیادہ استعمال ہوئے۔
اہم بات یہ تھی کہ حیرت کا یہ احساس زیادہ انکسار اور دوسروں کے لیے مثبت رویے سے بھی منسلک تھا۔ گرہن دیکھنے والے افراد نے ’میں‘ کے بجائے ’ہم‘ اور ’ہمیں‘ جیسے اجتماعی ضمیروں کا بھی زیادہ استعمال کیا۔
شان گولڈی کے مطابق یہ اثر مستقل نہیں تھا بلکہ تقریباً 24 گھنٹے تک نمایاں رہا۔
کائنات کے سامنے انسان کا احساسِ ذات
محققین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سورج گرہن انسان کی شخصیت کو مستقل طور پر تبدیل نہیں کرتا تاہم چند لمحوں کے لیے پیدا ہونے والا حیرت اور وسعت کا احساس ہمارے رویے اور سوچ پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب دنیا سیاسی اختلاف، سماجی تقسیم اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کا شکار ہے، سورج گرہن جیسے غیر معمولی واقعات لوگوں کو ایک مشترکہ تجربے میں اکٹھا کر سکتے ہیں۔
آخرکار ایک ہی آسمان کے نیچے کھڑے ہو کر کائنات کے ایک شاندار منظر کو دیکھنا انسان کو یہ احساس دلا سکتا ہے کہ اختلافات سے قطع نظر ہم سب ایک ہی وسیع کائنات کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: برطانیہ میں 27 سال بعد نایاب سورج گرہن، 12 اگست کو سورج 93 فیصد تک چھپ جائے گا
نوٹ: سورج گرہن کو براہِ راست دیکھتے وقت محفوظ شمسی چشموں کا استعمال ضروری ہے۔ ناسا کے مطابق عام دھوپ کے چشمے سورج کو براہِ راست دیکھنے کے لیے محفوظ نہیں ہیں۔














