کراچی پولیس نے لیاری گینگ وار کے بدنام زمانہ سرغنہ رحمان بلوچ عرف رحمان ڈکیت کے بھتیجے کو ساتھی سمیت دورانِ واردات رنگے ہاتھوں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان موٹر سائیکل چھیننے میں ملوث تھے اور ان کے قبضے سے اسلحہ بمعہ راؤنڈز اور چھینی گئی موٹر سائیکل بھی برآمد کر لی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لیاری میں رحمان بلوچ کا ڈیرہ جہاں لوگ اپنے مسائل حل کرانے آتے تھے
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کو تھانہ کلاکوٹ کی حدود میں کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا، جن کی شناخت حارث عرف حارث بلوچ اور راشد علی کے طور پر ہوئی ہے۔
برآمد ہونے والی موٹر سائیکل نمبر KTB-0057 کے چھیننے کا مقدمہ پہلے ہی تھانہ کلاکوٹ میں درج تھا۔
Rehman Dakat controlled Lyari for PPP, killed 100s and collected billions in extortion. Now his nephew is a small-time bike thief. What a fall https://t.co/kw1NP6L7Mh
— faraz (@faraz_lhr) January 5, 2026
پولیس کے مطابق ملزم حارث، لیاری گینگ وار کے سابق سرغنہ رحمان ڈکیت کا بھتیجا ہے، جبکہ دونوں ملزمان اس سے قبل بھی مختلف مقدمات میں گرفتار ہو کر جیل جا چکے ہیں۔
حارث ماضی میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے مقدمے میں گرفتار ہو چکا ہے، جبکہ راشد علی منشیات فروشی اور گٹکا و ماوا سے متعلق مقدمات میں جیل جا چکا ہے۔
رحمان ڈکیت کون؟
رحمان بلوچ عرف رحمان ڈکیت لیاری گینگ وار کا ایک انتہائی بدنام اور بااثر کردار رہا ہے، جو 2000 کی دہائی میں لیاری میں جرائم کی دنیا کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
رحمان ڈکیت پر قتل، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور اسلحہ کے غیر قانونی استعمال سمیت درجنوں سنگین مقدمات درج تھے۔
مزید پڑھیں: گینگسٹر یا ہیرو؟ لیاری گینگ وار کے رحمان ڈکیت کی اصل کہانی
لیاری میں مختلف گینگز کے درمیان خونریز جھڑپوں میں رحمان ڈکیت کا نام مرکزی حیثیت رکھتا رہا۔
رحمان ڈکیت 2009 میں ایک پولیس مقابلے میں مارا گیا، تاہم اس کی ہلاکت کے بعد بھی اس کا نام اور اثر لیاری کے جرائم سے جڑی خبروں میں طویل عرصے تک نمایاں رہا۔
دوسری جانب اس کے خاندان اور قریبی افراد کے بعض نام بعد ازاں اسٹریٹ کرائمز اور دیگر جرائم میں سامنے آتے رہے۔
بھتیجے کا جرائم سے تعلق
پولیس رپورٹس کے مطابق گرفتار ملزم حارث کا تعلق رحمان ڈکیت کے خاندان سے ہے اور اس کے والد بھی لیاری گینگ وار کے ایک متحرک رکن رہ چکے ہیں۔
تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ حارث اپنے چچا کی طرح کوئی بڑا گینگ لیڈر نہیں بن سکا، بلکہ وہ لیاری اور ملحقہ علاقوں میں اسٹریٹ کرائمز، موٹر سائیکل چھیننے اور اسلحہ رکھنے جیسے جرائم تک محدود رہا۔
مزید پڑھیں: لیاری کا گینگسٹر رحمان ڈکیت جس نے اپنی ماں کو بھی نہیں بخشا
واضح رہے کہ اگست 2023 میں بھی حارث کو لیاری سے ایک چھینی ہوئی موٹر سائیکل کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق دونوں ملزمان کے خلاف نئے مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
حارث کی فیملی کا حیران کن مؤقف
رحمان بلوچ کے ایک اور بھتیجے عبدالمالک کا کہنا ہے کہ حارث پورے خاندان کے لیے ایک مسئلہ ہے اسے درجنوں بار اسپتال داخل کرایا گیا ہے۔
’یہ اپنی ماں کا ایک ہی بیٹا ہے اورکئی بارجیل جا چکا ہے اسکے پیروں پر گولیاں لگ چکی ہیں 2 روز قبل اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد پھر سے اس نے یہ واردات کردی اسکی انہی حرکتوں سے اسکی والدہ پریشان رہتی ہیں۔‘
مزید پڑھیں: کراچی کی سڑکوں پر ڈکیتیاں اور لوٹ مار کرنے والا خطرناک گینگ پکڑا گیا
عبدالمالک کا کہنا ہے کہ حارث کی ان ہی حرکتوں کی وجہ سے اس سے سب نے رابطہ توڑدیا ہے۔ ’اس نے نشے کی خاطر سب کچھ برباد کردیا ہے ہم سب نے اسے دوسرے کاموں میں لگانے کی کوششیں کیں لیکن اسے صرف نشہ چاہیے جس کے لیے وہ کچھ بھی کر لیتا ہے۔‘
عبدالمالک کے مطابق یہ عبدالرحمان بلوچ کے بھائی عبدالرحیم کی دوسری بیوی کا بیٹا ہے اور یہ فتح بلوچ کا بھائی نہیں ہے، 44 بار اسپتال جانے والا نہیں سدھر رہا ہے۔
مزید پڑھیں: کراچی: بلال کالونی میں ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان قتل، ورثا کا قاتلوں کی گرفتاری تک تدفین نہ کرنے کا اعلان
’اس کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ کوئی بڑا ڈکیت نہیں ، بس نشہ پورا کرنے کے لیے اس طرح کی وارداتیں کرتا ہے، یہ موبائل فون چھینتا ہے موٹرسائیکل چھینتا ہے۔‘
عبدالمالک کے مطابق اس کی انہیں حرکتوں کے باعث اسکے سوتیلے بھائیوں نے اس سے کنارہ کشی اختیار کی ہوئی ہے اور ایک بار علاقے میں بائیک چھیننے پراسے آئندہ کسی جرم سے روکنے کی کوشش کی گئی اسے ری ہیبیلٹیشن سینٹر میں بھی داخل کیا گیا۔ یہ نارمل انسان نہیں ہے نفسیاتی مسائل ہیں اس کے۔














