پاکستانی طالبہ کا لندن اسکول اکنامکس کیخلاف قانونی مقدمہ، غلط مارکنگ سے کیمبرج کا خواب چکناچور

پیر 5 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستانی طالبہ ریحاب اسد شیخ نے عالمی شہرت یافتہ تعلیمی ادارے لندن اسکول آف اکنامکس یعنی ایل ایس ای کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا ہے, ان کے مطابق گریجویشن کے بعد نمبرز دینے میں ہونے والی ناانصافی نے انہیں کیمبرج یونیورسٹی سے ایم فل کرنے کے ایک واضح طور پر ممکنہ موقع سے محروم کردیا۔

ریحاب اسد شیخ 2020 میں کراچی گرامر اسکول سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد برطانیہ آئیں، انہوں نے 2023 میں ایل ایس ای  سے پالیسی اسٹڈیز میں گریجویشن مکمل کی، جس کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی سے ماڈرن ساؤتھ ایشین اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا۔

یہ بھی پڑھیں:انسانی حقوق کے وکیل نے اپنی لندن یونیورسٹی کی ڈگری کیوں جلا دی؟

تاہم آکسفورڈ ان کی پہلی ترجیح نہیں تھی؛ وہ دراصل کیمبرج یونیورسٹی میں ایم فل کرنا چاہتی تھیں۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں مسائل کا آغاز ہوا، جس نے ان کی زندگی، کیریئر کے فیصلوں اور صحت کو متاثر کیا۔

سندھ کے علاقے خیرپور گمبٹ سے تعلق رکھنے والی ریحاب اس وقت برطانیہ کی ایک سرکاری وزارت میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر تین سال قبل ایل ایس ای  کی جانب سے ان کے ساتھ ناانصافی نہ ہوتی تو ان کے کیریئر کے انتخاب مختلف ہو سکتے تھے۔

2023 میں گریجویشن کے دوران برطانیہ بھر میں ہونے والے مارکنگ اینڈ اسیسمنٹ بائیکاٹ کے باعث ان کا انڈرگریجویٹ مقالہ معمول کے مطابق 2 اساتذہ کے بجائے صرف ایک ممتحن نے چیک کیا، جس پر انہیں 57 نمبر دیے گئے۔

مزید پڑھیں: امریکا میں غیر ملکی طلبا کے ویزے اچانک منسوخ، طلبا خوف و ہراس کا شکار

ریحاب کا ماننا تھا کہ یہ طریقۂ کار انہیں دیگر طلبہ کے مقابلے میں نقصان پہنچانے کا سبب بنا، جن کا کام ڈبل مارکنگ کے عمل سے گزرا تھا۔ انہوں نے ادارے کے اندرونی اپیل سسٹم، شکایتی طریقۂ کار اور بالآخر آفس آف دی انڈیپنڈنٹ ایڈجوڈی کیٹر تک تمام قانونی راستے اختیار کیے۔

تقریباً 2 سال سے زائد عرصے بعد ایل ایس ای نے ان کا مقالہ دوبارہ چیک کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ نتیجہ حیران کن تھا، ان کے نمبر 57 سے بڑھ کر 72 ہو گئے، یعنی 15 نمبروں کا واضح فرق رونما ہوچکا تھا۔

ریحاب نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے قانونی کارروائی اس لیے شروع کی ہے تاکہ یونیورسٹی کی جانب سے معافی، اس بات کا اعتراف کہ غلطی ہوئی، اس نقصان کا ازالہ اور اس امر کی یقین دہانی حاصل کی جا سکے کہ آئندہ کسی اور طالب علم کے ساتھ ایسا نہ ہو۔

’ایل ایس ای مزاحمت کر رہا ہے، مگر میں انصاف ملنے تک ہار نہیں مانوں گی، بہت سے طلبا کے لیے مقالے کا نمبر صرف ایک ٹرانسکرپٹ پر درج عدد ہوتا ہے، لیکن میرے لیے یہ ڈھائی سالہ جدوجہد کا مرکز بن گیا، جس نے جوابدہی، طلبا کی فلاح و بہبود اور اداروں کے رویے سے متعلق سنجیدہ سوالات کو جنم دیا۔‘

مزید پڑھیں: اسرائیل مخالف احتجاج پر امریکی یونیورسٹی میں ریپبلکن رہنما کی بیٹی معطل، 104 افراد گرفتار

نمبرز میں نمایاں اضافے کے باوجود ایل ایس ای نے اپنے بعد ازاں فیصلوں میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ کوئی غلطی نہیں ہوئی، ادارے پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی اور اس عمل کے کسی بامعنی منفی اثر کو ثابت نہیں کیا جا سکا۔

ادارے نے ریحاب کو پیش آنے والے ذہنی دباؤ، تاخیر اور مواقع کے ضیاع کو ’ذاتی طور پر بیان کردہ، غیرمتاثرکن اور غیر اہم قرار دیا۔

ریحاب کے مطابق اس کے بعد کا وقت ان کے لیے ایک ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا، انہوں نے بتایا کہ جب 72 نمبر کے ساتھ نیا ریکارڈ جاری ہوا تو ان کی ٹرانسکرپٹ پر مختصر وقت کے لیے ایک ڈیپارٹمنٹل اکیڈمک انعام بھی درج کیا گیا، تاہم 2 گھنٹے بعد اسے غلطی قرار دے کر واپس لے لیا گیا۔

مزید پڑھیں: برطانیہ میں ویزا ختم ہونے پرغیرملکی طلبا کو ہوم آفس کی سخت وارننگ

بعد ازاں خط و کتابت کے بعد انعام بحال کر دیا گیا اور شعبے نے اس غلطی سے ہونے والی ذہنی اذیت کا اعتراف کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ایل ایس ای انتظامیہ نے ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا اور صحت کے ماہرین کی جانب سے فراہم کردہ اضطراب اور ذہنی دباؤ سے متعلق خطوط کو بھی ’خود ساختہ اورغیرمؤثر‘ قرار دیا گیا۔

ریحاب اسد شیخ کا کہنا ہے کہ ان کا کیس منفرد نہیں۔ ’عوامی سطح پر بات کرنے کے بعد متعدد طلبا نے ان سے رابطہ کیا جنہوں نے اسی نوعیت کے تجربات بیان کیے، جن میں طویل تاخیر، غیر شفاف طریقۂ کار اور ادارہ چھوڑنے کے بعد طلبہ کی فلاح کو نظرانداز کرنا شامل ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp