بھارت کی ریاست بہار میں حجاب اور نقاب کرنے والی خواتین کوزیور نہ بیچنے کے متنازع فیصلے نے تنازع کھڑا کر دیا۔
بہار میں جیولری دکانوں نے ہدایت جاری کی ہے کہ پردہ یا ماسک پہن کر آنے والے گاہکوں کو سونے کی خریداری کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ فیصلہ آل انڈیا جیولرز اور گولڈ فیڈریشن (AIJGF) بہار کی جانب سے سیکیورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دوکاندار کی آنکھوں میں مرچ پھینک کر زیورات لے کر بھاگنے کی کوشش کے بعد کیا ہوا؟ ویڈیو وائرل
فیڈریشن کی ہدایت کے مطابق حجاب، نقاب، اسکارف، ہیلمٹ یا کسی بھی طرح چہرہ ڈھانپنے والے افراد کو صرف اس صورت میں خریداری کی اجازت ہوگی جب وہ اپنا چہرہ عارضی طور پر دکھا کر اپنی شناخت ثابت کریں۔
راشٹریہ جنتا دل کے ترجمان ایزاز احمد نے اس فیصلے پر تنقید کی اور کہا کہ یہ آئین کے سیکولر اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے ارکان اس اقدام کے پیچھے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: 9 گینگز کے 20 ملزمان گرفتار، 2 کروڑ روپے مالیت کی نقدی و زیورات برآمد
انہوں نے مزید کہا کہ حجاب اور نقاب کو سیکیورٹی کے نام پر نشانہ بنانا مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتا ہے اور آئین کے تحت دیے گئے مذہبی آزادی کے بنیادی حق کو محدود کرنے کی کوشش ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قدم مسلم کمیونٹی کے مذہبی حقوق کو نشانہ بنا رہا ہے اور بنیادی آزادیوں کی خلاف ورزی ہے۔ سیاسی اور سماجی حلقوں میں اس فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے جس نے بحث کو ملک گیر سطح تک پہنچا دیا ہے۔














