پنجگور میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، یونیورسٹی کے سابق استاد سمیت متعدد دہشتگرد گرفتار

جمعرات 8 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے ایک اہم دہشت گرد کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزم سابق یونیورسٹی استاد ہے، جس کے قبضے سے خودکش جیکٹ، جدید اسلحہ اور بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد ہوا۔

گرفتاری اور برآمدگیوں کی تفصیلات ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ہوم) بلوچستان حمزہ شفقت اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل اعتزاز احمد گورایا نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتائیں۔

یہ بھی پڑھیے: کراچی میں بھاری مقدار میں بارودی مواد برآمد، 3 دہشت گرد گرفتار، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی

ڈی آئی جی اعتزاز گورایا کے مطابق گرفتار ملزم ساجد احمد عرف شہویز، تربت کا رہائشی ہے اور اس سے قبل یونیورسٹی آف تربت میں بطور استاد خدمات انجام دے چکا ہے۔ وہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کا گریجویٹ ہے اور کالعدم دہشت گرد تنظیم سے وابستہ رہا۔ حکام کے مطابق وہ ریکی، سہولت کاری اور نوجوانوں کی بھرتی میں ملوث تھا۔

سی ٹی ڈی حکام نے بتایا کہ گرفتاری کے وقت ملزم کی گاڑی سے خودکش جیکٹ، جدید ہتھیار اور بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا، جو مبینہ طور پر پنجگور سے تربت منتقل کیا جا رہا تھا۔

حکام کے مطابق ملزم افغانستان میں موجود کالعدم تنظیم کے ایک کمانڈر سے رابطے میں تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس کے بلوچ یوتھ کمیٹی سے بھی روابط تھے جبکہ برآمد شدہ اسلحہ ایران کے راستے پاکستان اسمگل کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: پنجگور واقعہ: سی ٹی ڈی اور پولیس کا بروقت اور جرات مندانہ ردعمل قابلِ تحسین، وزیر اعلیٰ بلوچستان

ڈی آئی جی گورایا نے خبردار کیا کہ تعلیم یافتہ افراد میں شدت پسندی کا رجحان بڑھ رہا ہے اور بعض پلیٹ فارمز کو نوجوانوں کی انتہاپسندی اور انہیں مسلح تنظیموں میں شامل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اسی سلسلے میں مزید کارروائیوں کے دوران خاران سے 18 سالہ سرفراز کو ریکی میں مبینہ ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا۔ ایک اور ملزم 20 سالہ جہانزیب عرف مہربان کو بھی حراست میں لیا گیا، جس پر سرفراز کی بھرتی اور فنڈز و سامان کی ترسیل میں سہولت کاری کا الزام ہے۔

حکام کے مطابق ایک اور 18 سالہ ملزم بیزان کو بھی گرفتار کیا گیا، جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ اسی نیٹ ورک کے ذریعے شامل ہوا اور بعد ازاں کالعدم تنظیم سے وابستہ ہو گیا۔

حکام نے کہا کہ دہشت گرد گروہ نوجوانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور بھرتی و ذہن سازی کے پیچھے ایک منظم نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پنجگور: سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں بھارتی حمایت یافتہ 4 دہشتگرد ہلاک

گزشتہ سال کی سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ 2025 کے دوران تقریباً 90 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں 700 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ 400 سے زائد سیکیورٹی اہلکار اور شہری بھی جان سے گئے۔

حمزہ شفقت نے کہا کہ 2025 کے آخری 3 ماہ میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ نیشنل فارنزک اینڈ ٹیکنیکل انویسٹی گیشن کمیشن (نیفٹک) مارچ تک بلوچستان کے تمام اضلاع میں مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے پورے صوبے کو ‘اے ایریا’ قرار دے دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘