سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے ایک اہم دہشت گرد کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزم سابق یونیورسٹی استاد ہے، جس کے قبضے سے خودکش جیکٹ، جدید اسلحہ اور بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد ہوا۔
گرفتاری اور برآمدگیوں کی تفصیلات ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ہوم) بلوچستان حمزہ شفقت اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل اعتزاز احمد گورایا نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتائیں۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی میں بھاری مقدار میں بارودی مواد برآمد، 3 دہشت گرد گرفتار، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی
ڈی آئی جی اعتزاز گورایا کے مطابق گرفتار ملزم ساجد احمد عرف شہویز، تربت کا رہائشی ہے اور اس سے قبل یونیورسٹی آف تربت میں بطور استاد خدمات انجام دے چکا ہے۔ وہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کا گریجویٹ ہے اور کالعدم دہشت گرد تنظیم سے وابستہ رہا۔ حکام کے مطابق وہ ریکی، سہولت کاری اور نوجوانوں کی بھرتی میں ملوث تھا۔
سی ٹی ڈی حکام نے بتایا کہ گرفتاری کے وقت ملزم کی گاڑی سے خودکش جیکٹ، جدید ہتھیار اور بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا، جو مبینہ طور پر پنجگور سے تربت منتقل کیا جا رہا تھا۔
حکام کے مطابق ملزم افغانستان میں موجود کالعدم تنظیم کے ایک کمانڈر سے رابطے میں تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس کے بلوچ یوتھ کمیٹی سے بھی روابط تھے جبکہ برآمد شدہ اسلحہ ایران کے راستے پاکستان اسمگل کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: پنجگور واقعہ: سی ٹی ڈی اور پولیس کا بروقت اور جرات مندانہ ردعمل قابلِ تحسین، وزیر اعلیٰ بلوچستان
ڈی آئی جی گورایا نے خبردار کیا کہ تعلیم یافتہ افراد میں شدت پسندی کا رجحان بڑھ رہا ہے اور بعض پلیٹ فارمز کو نوجوانوں کی انتہاپسندی اور انہیں مسلح تنظیموں میں شامل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اسی سلسلے میں مزید کارروائیوں کے دوران خاران سے 18 سالہ سرفراز کو ریکی میں مبینہ ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا۔ ایک اور ملزم 20 سالہ جہانزیب عرف مہربان کو بھی حراست میں لیا گیا، جس پر سرفراز کی بھرتی اور فنڈز و سامان کی ترسیل میں سہولت کاری کا الزام ہے۔
حکام کے مطابق ایک اور 18 سالہ ملزم بیزان کو بھی گرفتار کیا گیا، جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ اسی نیٹ ورک کے ذریعے شامل ہوا اور بعد ازاں کالعدم تنظیم سے وابستہ ہو گیا۔
حکام نے کہا کہ دہشت گرد گروہ نوجوانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور بھرتی و ذہن سازی کے پیچھے ایک منظم نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پنجگور: سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں بھارتی حمایت یافتہ 4 دہشتگرد ہلاک
گزشتہ سال کی سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ 2025 کے دوران تقریباً 90 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں 700 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ 400 سے زائد سیکیورٹی اہلکار اور شہری بھی جان سے گئے۔
حمزہ شفقت نے کہا کہ 2025 کے آخری 3 ماہ میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ نیشنل فارنزک اینڈ ٹیکنیکل انویسٹی گیشن کمیشن (نیفٹک) مارچ تک بلوچستان کے تمام اضلاع میں مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے پورے صوبے کو ‘اے ایریا’ قرار دے دیا گیا ہے۔














