شامی فوج اور باغی ایس ڈی ایف کے درمیان جھڑپیں میں شدت، حلب کے متعدد علاقوں میں کرفیو نافذ

جمعہ 9 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

شام کے شہر حلب میں شامی فوج اور کرد قیادت میں شامل شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے درمیان شدید جھڑپوں کے باعث سیکیورٹی صورتحال بگڑ گئی، جس کے بعد حکام نے شہر کے کئی علاقوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:حلب میں جھڑپیں جاری، شامی حکومت کی شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت

شامی حکام کے مطابق حلب کے علاقوں الاشرفیہ، شیخ مقصود، بنی زید، السریان، الحلک اور المیدان میں جمعرات کے روز کرفیو نافذ کیا گیا، جو تاحکمِ ثانی برقرار رہے گا۔ حلب انٹرنل سیکیورٹی کمانڈ نے بتایا کہ یہ اقدام شہریوں کے تحفظ، امن و امان برقرار رکھنے اور جان و مال کو لاحق خطرات سے بچاؤ کے لیے کیا گیا ہے، جبکہ کرفیو کے دوران ان علاقوں میں ہر قسم کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی ہوگی۔

عہدیداروں کے مطابق حالیہ جھڑپوں کے نتیجے میں الاشرفیہ اور شیخ مقصود سے ایک لاکھ سے زائد شہری اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ کئی رہائشیوں نے بتایا کہ سنائپر فائرنگ اور گولہ باری کے باعث لوگ نقل مکانی تو کرنا چاہتے ہیں، مگر راستوں میں جان کے خطرے کے باعث خوف زدہ ہیں۔

اس ہفتے حلب میں جاری لڑائی کے دوران کم از کم 22 افراد ہلاک اور 173 زخمی ہو چکے ہیں۔ شامی فوج نے الزام عائد کیا ہے کہ ایس ڈی ایف نے شہری علاقوں کو توپ خانے اور مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا، تاہم کرد قیادت میں شامل فورسز نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جانی نقصان حکومت نواز دھڑوں کی اندھا دھند گولہ باری کا نتیجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:برطانیہ اور فرانس کا شام میں داعش کے ٹھکانے پر مشترکہ فضائی حملہ

شام کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ایس ڈی ایف سے وابستہ مسلح گروہوں کے انخلا کے بعد حکومتی فورسز نے الاشرفیہ کے بعض علاقوں میں تعیناتی شروع کر دی ہے، تاکہ شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور کسی بھی بدامنی کو روکا جا سکے۔

ادھر حلب کے ایک اسپتال سے رپورٹ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ شدید گولہ باری کی آوازیں مسلسل سنائی دے رہی ہیں اور طبی عملہ زخمیوں کے علاج میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی برطرفی کے بعد حلب میں یہ اب تک کی شدید ترین لڑائی ہے۔

دوسری جانب ایس ڈی ایف کے کمانڈر مظلوم عبدی نے کہا ہے کہ حلب میں ٹینکوں اور توپ خانے کی تعیناتی اور شہری آبادی کی بے دخلی نے دمشق حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کرد فورسز کو ریاستی اداروں میں ضم کرنے کا عمل محض طاقت کے ذریعے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے جامع سیاسی فریم ورک اور قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا عظیم فٹبالر رونالڈو فلمی دنیا میں قدم رکھنے والے ہیں؟

پاکستان کاروباری مواقع فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

آیت اللہ خامنہ ای پر حملہ ہوا تو جہاد کا فتویٰ جاری کردیں گے، ایرانی پارلیمنٹ

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف کی مصری ہم منصب سے قاہرہ میں ملاقات

گرین لینڈ پر امریکی دباؤ مسترد، یورپ غنڈہ گردی کے آگے نہیں جھکے گا، فرانسیسی صدر میکرون

ویڈیو

جنید صفدر کی شادی میں فوٹو شوٹ کرنے والے فوٹو گرافر نے ساری تفصیلات بیان کردیں

شہر اقتدار میں 28ویں آئینی ترمیم کی چہ مگوئیاں، تھرتھلی مچ گئی

درختوں سے پولن الرجی اسلام آباد کے شہریوں کو کیسے متاثر کررہی ہے؟

کالم / تجزیہ

’میرے پاس کالا کوٹ نہیں تھا‘

کینیڈا کے انڈے

پی ٹی آئی کے تابوت میں آخری کیل