وفاقی حکومت نے نئی توانائی گاڑیوں کی پالیسی کے تحت الیکٹرک بائیکس، رکشوں اور لوڈرز کی تقسیم کے لیے اربوں روپے کی سبسڈی اسکیم کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد ایندھن کی بچت اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا ہے۔
وفاقی حکومت نے نیو انرجی وہیکلز (NEV) پالیسی 2025-30 کے تحت پاکستان ایکسیلیریٹڈ وہیکل الیکٹریفیکیشن (PAVE) پروگرام کے دوسرے مرحلے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت الیکٹرک بائیکس، لوڈرز اور رکشے ’پہلے آئیے، پہلے پائیے‘ کی بنیاد پر فراہم کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے مالی سال 2025-26 کے لیے 9 ارب روپے کے پیکج کی منظوری دی ہے۔ یہ اسکیم نیو انرجی وہیکلز ایڈاپشن لیوی ایکٹ 2025 کے تحت ریونیو نیوٹرل ماڈل پر چلائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے پنجاب میں اسٹوڈنٹس کے لیے ای موٹربائیکس کی سرکاری اسکیم کا اعلان، ڈاؤن پیمنٹ اور قسط کتنی ہوگی؟
موجودہ مالی سال کے لیے مجموعی ہدف 1 لاکھ 19 ہزار 170 گاڑیوں کا ہے، جن میں 1 لاکھ 16 ہزار الیکٹرک بائیکس اور 3 ہزار 170 رکشے اور لوڈرز شامل ہیں۔ ابتدائی پائلٹ مرحلے میں 41 ہزار گاڑیاں تقسیم کی گئیں، جبکہ دوسرے مرحلے میں 76 ہزار الیکٹرک بائیکس اور 2 ہزار 170 رکشے اور لوڈرز فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ECC آئندہ 3 ماہ کے دوران مزید 1 لاکھ الیکٹرک بائیکس کی تیز رفتار تقسیم کی بھی منظوری دے سکتی ہے۔ اس پروگرام کے لیے مقامی سطح پر دستیاب اور زیرِ ترسیل تقریباً 1 لاکھ 30 ہزار CKD کٹس استعمال کی جائیں گی۔
حکومت کی جانب سے فی الیکٹرک بائیک 80 ہزار روپے کی مقررہ سبسڈی دی جائے گی، جو براہ راست منظور شدہ مینوفیکچررز (OEMs) کو ادا کی جائے گی۔ بائیکس کی تقسیم 200 بیچز میں کی جائے گی، ہر بیچ میں 500 یونٹس شامل ہوں گے۔
حکام کے مطابق اس اقدام سے قلیل مدت میں تقریباً 86 لاکھ لیٹر پیٹرول کی بچت ہوگی، جس کی مالیت 80 لاکھ ڈالر کے قریب بنتی ہے، جبکہ 5 سال میں یہ بچت بڑھ کر 22 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے گرین کریڈٹ پروگرام: الیکٹرک بائیک خرید کر 1 لاکھ روپے کا انعام حاصل کریں
اسی کے ساتھ حکومت نے 2025 کے انٹرمیڈیٹ امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے 600 مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے پر تقریباً 15 کروڑ روپے لاگت آئے گی، جبکہ فی بائیک اوسط قیمت 2 لاکھ 50 ہزار روپے رکھی گئی ہے۔
پہلے مرحلے میں پیش آنے والی مشکلات کے پیش نظر اس بار قرعہ اندازی کے نظام کو ختم کر کے ’پہلے آئیے، پہلے پائیے‘ کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے، جبکہ پہلے مرحلے کے انتظار میں موجود درخواست دہندگان کو ترجیح دی جائے گی۔
سبسڈی کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ اب خریدار مکمل رقم ادا کرنے کے بجائے سبسڈی منہا کرنے کے بعد باقی رقم ادا کریں گے، جبکہ انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (EDB) اسٹیٹ بینک کے ذریعے تصدیق کے بعد سبسڈی براہ راست کمپنیوں کو منتقل کرے گا۔
وفاقی ملازمین (گریڈ 16 اور اس سے کم) کے لیے آسان شرائط پر اسکیم بھی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت بائیک کے لیے 10 ہزار اور رکشے کے لیے 1 لاکھ روپے ڈاؤن پیمنٹ ہوگی، جبکہ باقی رقم 6 سے 18 ماہ میں بغیر سود تنخواہ سے قسطوں کی صورت میں وصول کی جائے گی۔
اس پروگرام میں ادارہ جاتی فنانسنگ، ہاؤسنگ پارٹنرشپس، بیرون ملک پاکستانی (NICOP/POC ہولڈرز)، SECP رجسٹرڈ مالیاتی ادارے اور فلیٹ آپریٹرز بھی شامل ہو سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیے پنجاب میں طلبا سبسڈی کے باوجود ای بائیکس لینے سے کیوں انکار کررہے ہیں؟
تصدیقی عمل کو بھی آسان بناتے ہوئے مکمل تھرڈ پارٹی ویری فکیشن کی جگہ رسک بیسڈ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، جس میں بائیومیٹرک، تصاویر اور ڈیجیٹل ویری فکیشن شامل ہوگی۔ پہلے مرحلے میں اس عمل پر 50 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئی تھی۔
پروگرام کے نفاذ کے لیے EDB کے تحت 14 رکنی خصوصی یونٹ قائم کیا جائے گا، جس پر سالانہ تقریباً 3 کروڑ 27 لاکھ روپے خرچ ہوں گے، جبکہ مالی سال 2025-26 کے لیے 3 کروڑ 70 لاکھ روپے آپریشنل اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
پہلے مرحلے میں 2 لاکھ 69 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں، جس سے اس اسکیم کی مقبولیت ظاہر ہوتی ہے، جبکہ سیلف فنانس اسکیم کے تحت 99.6 فیصد ڈیلیوری کامیابی سے مکمل کی گئی۔














