مہنگائی اور معاشی بحران کے خلاف جاری پرتشدد مظاہروں کے پیشِ نظر پاکستان نے اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے ہنگامی اقدامات کر دیے ہیں۔ تہران میں پاکستانی سفارتخانے نے کرائسس مینجمنٹ یونٹ قائم کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں شہری فوری رابطہ کر سکیں، جبکہ غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
🔊PR No.1️⃣3️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Travel Advisory for Pakistani Nationals Regarding Iran
🔗⬇️ pic.twitter.com/YmH4PwmrCp— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) January 10, 2026
پاکستانی سفارتخانے کے مطابق موجودہ حالات میں پاکستان کے شہریوں کے لیے 24 گھنٹے رابطے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں، محتاط رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں فوری طور پر سفارتخانے سے رابطہ کریں۔
کرائسس مینجمنٹ یونٹ کے لیے رابطہ نمبرز درج ذیل ہیں:
تہران:
+98-21-66-9413-88/89/90/91 (لینڈ لائن)
+98-21-66-9448-88/90 (لینڈ لائن)
+98 910 764 8298 (موبائل)
زہدان:
+98 54 33 22 3389 (لینڈ لائن)
+989046145412 (موبائل)
مشہد:
1. +98 910 762.5302
2. +98 937 180 7175
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں مظاہروں میں شدت آ گئی ہے اور متعدد شہروں میں پرتشدد جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ مظاہرین نے سرکاری عمارتیں، بینک، اسپتال اور مساجد نشانہ بنائیں جبکہ فائر ٹرک، بسیں اور شہریوں کی گاڑیاں بھی نقصان اٹھا چکی ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد اب تک 217 تک پہنچنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جبکہ تقریباً 2,500 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستانی شہریوں کے لیے ایران کا سفارتی الرٹ، سفارتخانے نے 24 گھنٹے رابطے کی سہولت فراہم کر دی
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ امریکی اثرورسوخ کے تحت فسادی عوامی املاک کو نقصان پہنچا کر صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور قوم کو اتحاد برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ ایرانی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ریاستی خودمختاری کا احترام کرے اور بیرونی مداخلت کو روکے۔

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ غیر ملکی حمایت یافتہ عناصر احتجاج کو تشدد کی طرف موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ایرانی عوام اپنی حکومت اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔
یہ صورتحال ایران میں شہریوں کے لیے خطرناک قرار دی گئی ہے، جس کے پیشِ نظر پاکستانی شہریوں کو ملک میں غیر ضروری سفر سے گریز اور سفارتخانے سے رابطے کی ہدایت کی گئی ہے۔













