زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، مگر کیا یہ معاشی بحالی کے لیے کافی ہے؟

پیر 12 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے وطن بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر کا حجم 3.59 ارب ڈالر رہا۔

واضح رپے کہ اعداد و شمار کے مطابق ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 16.5 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ میں یہ رقم 3.1 ارب ڈالر تھی۔

یہ بھی پڑھیے: ونٹر اکانومی، بلوچستان کی خوبصورت وادیاں ملکی معیشت کے لیے کتنی اہم؟

مالی سال 2026 کے پہلے 6 ماہ کے دوران ترسیلاتِ زر 19.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 17.8 ارب ڈالر تھیں، یوں 11 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

کیا ترسیلاتِ زر میں اضافہ پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو پائیدار بنیادوں پر مستحکم بنا سکتا ہے اور ذخائر میں بہتری کو کس حد تک مثبت معاشی پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے؟

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے معاشی ماہر اور سینیئر صحافی شہباز رانا کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کی موجودہ سطح وقتی ریلیف ضرور فراہم کرتی ہے، مگر اسے مکمل معاشی استحکام کی علامت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود خالص غیر ملکی ذخائر اب بھی محدود ہیں، جو بمشکل 3 سے 4 ماہ کی درآمدات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: بِٹ کوائن کو 2022 کے بعد پہلی سالانہ خسارے کا سامنا، عالمی معیشت کو دباؤ کا سامنا

شہباز رانا کا کہنا ہے کہ ذخائر میں حالیہ بہتری کی بنیادی وجوہات بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے مقامی مارکیٹ سے ڈالر کی خریداری ہیں۔ ان کے مطابق برآمدات میں اب تک وہ خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا جس کی معیشت کو طویل المدتی بنیادوں پر ضرورت ہے، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری اور نئے قرضوں کی آمد بھی محدود رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی موجودگی نے معیشت کو سہارا ضرور دیا ہے اور فوری ڈیفالٹ کے خدشات کم ہوئے ہیں، تاہم حکومت کو مکمل اطمینان کے بجائے محتاط حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، خصوصاً برآمدات اور پیداواری شعبے میں اصلاحات پر توجہ دینا ہوگی۔

دوسری جانب معاشی ماہر راجہ کامران زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافے کو معیشت کے لیے ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ذخائر میں بہتری کی سب سے بڑی وجہ ترسیلاتِ زر میں مسلسل اضافہ ہے، جو رواں مالی سال میں ریکارڈ سطح تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: حکومت کی اصلاحاتی پالیسیوں کے باعث پاکستانی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن، عالمی سطح پر پیشرفت کا اعتراف

راجہ کامران کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 سے ڈھائی سال کے دوران روپے کا نسبتاً مستحکم رہنا معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حاصل ہونے والی مالی معاونت اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ سے ڈالر کی خریداری نے بھی ذخائر کو مضبوط کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے دانستہ طور پر روپے کو ایک متوازن حد میں رکھا ہوا ہے تاکہ نہ تو یہ غیر ضروری طور پر مضبوط ہو اور نہ ہی زیادہ کمزور، کیونکہ دونوں صورتیں برآمدات کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق دوست ممالک کے ساتھ موجود مالی ڈپازٹس کو اثاثوں میں تبدیل کرنے کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے، جس سے آئندہ برسوں میں قرضوں کے رول اوور کا دباؤ کم ہونے کا امکان ہے۔

راجہ کامران کے مطابق اگرچہ پاکستان کا بیرونی قرض بڑھ چکا ہے، مگر عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو کئی ممالک اس سے کہیں زیادہ قرض کے بوجھ کے ساتھ مستحکم معیشت چلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بیلنس آف پیمنٹ کے بحران کو بڑی حد تک کنٹرول کر لیا ہے اور دفاعی برآمدات سمیت دیگر شعبوں میں بہتری سے آئندہ چند برسوں میں زرِ مبادلہ کی آمدن مزید بہتر ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی معیشت اہم موڑ پر پہنچ چکی، ہم برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب بڑھ رہے ہیں، وزیر خزانہ

معاشی ماہر ڈاکٹر محمد ناصر کے مطابق پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں حالیہ بہتری کو محض اعداد و شمار تک محدود کرنا درست نہیں، بلکہ اسے معاشی پالیسی کے درست سمت میں بڑھتے قدم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق سب سے اہم بات یہ ہے کہ معیشت آہستہ آہستہ قلیل مدتی سہاروں کے بجائے پائیدار اور اندرونی زرِ مبادلہ کے ذرائع کی طرف بڑھ رہی ہے۔

ڈاکٹر محمد ناصر کے مطابق اگرچہ برآمدات کی رفتار ابھی سست ہے، مگر درآمدات میں نظم و ضبط، توانائی کے بہتر انتظام اور غیر ضروری درآمدی اخراجات میں کمی نے کرنٹ اکاؤنٹ کو قابلِ انتظام سطح پر لا کھڑا کیا ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ذخائر میں اضافہ بغیر کسی بڑے مالی جھٹکے کے ممکن ہو رہا ہے۔

ان کے مطابق آئی ٹی برآمدات، فری لانسرز اور ڈیجیٹل سروسز کے ذریعے آنے والا زرِ مبادلہ بھی ایک اہم اور مستحکم ستون ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے اور بینکنگ چینلز کو آسان بنانے کی پالیسیاں آنے والے برسوں میں ذخائر کو مزید مضبوط کریں گی۔

یہ بھی پڑھیے: معاشی اعداد و شمار میں استحکام، پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر  16 ملین ڈالر سے زیادہ ہوگئے

ڈاکٹر محمد ناصر نے کہا کہ ذخائر میں حالیہ بہتری کا سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ اس سے مارکیٹ میں نفسیاتی استحکام اور اعتماد پیدا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیوں میں بتدریج بہتری آ رہی ہے۔ ان کے مطابق خام مال کی بہتر دستیابی سے صنعتی پیداوار میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھے، ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے کی بہتری اور برآمدات کے دائرہ کار کو وسعت دینے پر توجہ دے، تو موجودہ زرِ مبادلہ کے ذخائر آئندہ چند برسوں میں معیشت کی بحالی کے لیے ایک مضبوط بنیاد بن سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد‘: محمود اچکزئی کا حکومت کی غیرمشروط حمایت کا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف کا مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر اظہار تشویش

پی ایس ایل 11، حیدر آباد کنگز مین کی پشاور زلمی کے خلاف بیٹنگ جاری

پی ٹی آئی کا لیاقت باغ میں جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان

غیرملکی وفود کی آمدورفت، اسلام آباد پولیس کی عوام کے لیے اہم ہدایات جاری

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟